حکومتِ پنجاب نے صوبے میں صحت عامہ کی سہولیات کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت ایک اور تاریخی اقدام کا آغاز کیا ہے۔ کچی آبادیوں، دیہی علاقوں اور پسماندہ بستیوں کے بعد اب کلینک آن ویلز سروس کا دائرہ کار میڈیا برادری یعنی صحافیوں (Journalists) اور ان کے اہل خانہ تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس خصوصی ہیلتھ انیشیٹو کا مقصد دن رات فیلڈ میں سخت ڈیوٹی دینے والے صحافیوں کو ان کے کام کی جگہ پر ہی مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
فیلڈ اور دفتری تناؤ (Stress) سے پیدا ہونے والے امراض سے بچاؤ کے لیے یہ موبائل کلینکس پریس کلبز اور دیگر بڑے میڈیا ہاؤسز کے اشتراک سے صحافیوں اور ان کے خاندانوں کی اسکریننگ اور علاج کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ اگر آپ ایک میڈیا پروفیشنل ہیں، تو یہ مضمون آپ کو اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا مکمل پریکٹیکل طریقہ کار فراہم کرے گا۔
صحافیوں کے لیے فراہم کردہ طبی سہولیات اور مفت ٹیسٹ
یہ موبائل کلینک گاڑیاں محض بنیادی طبی امداد تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کے اندر جدید ترین تشخیصی آلات (Diagnostic Tools) اور ماہر ٹیکنیشنز موجود ہوتے ہیں۔ صحافیوں اور ان کے فیملی ممبرز کو درج ذیل سہولیات بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں:
ماہر ڈاکٹرز کا معائنہ: بلڈ پریشر، شوگر اور دل کے عوارض کے لیے ماہر معالجین کی خدمات دستیاب ہیں۔
مفت تشخیصی ٹیسٹ: خون کے بنیادی ٹیسٹ (جیسے سی بی سی، شوگر ٹیسٹ، اور ہیپاٹائٹس بی و سی کی اسکریننگ) کی سہولت موقع پر ہی فراہم کی جاتی ہے۔
خواتین کے لیے الٹراساؤنڈ (Ultrasound): صحافیوں کی فیملیز اور خواتین میڈیا ورکرز کے لیے ان گاڑیوں میں جدید ترین الٹراساؤنڈ کی مشینری نصب کی گئی ہے جہاں زچگی سے پہلے اور بعد کے چیک اپ کی سہولت موجود ہے۔
بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن: صحافیوں کے بچوں کے لیے ای پی آئی (EPI) شیڈول کے مطابق تمام بنیادی حفاظتی ٹیکے اور قطرے پلانے کا انتظام بھی ان موبائل وینز میں شامل ہے۔
مفت ادویات کی فراہمی: معائنے کے بعد ڈاکٹر کی تجویز کردہ تمام بنیادی اور ضروری ادویات موقع پر ہی مفت فراہم کر دی جاتی ہیں۔
کلینک آن ویلز سروس کا آپریٹنگ شیڈول اور دائرہ کار
| سروس کے پیرامیٹرز | اوقات اور تفصیلات (Timings) | بنیادی ہدف (Target Audience) |
| روزمرہ کے اوقات | صبح 9:00 بجے سے دوپہر 3:00 بجے تک | صحافی، کیمرہ مین، اور ان کے فیملی ممبران |
| کام کے دن | پیر سے ہفتہ (جمعہ کو ہاف ڈے) | پریس کلبز اور بڑے میڈیا ہاؤسز |
| گاڑیوں کی ٹیکنالوجی | الیکٹرک اور الٹراساؤنڈ لیس وہیکلز | موقع پر لائیو اسکریننگ اور فری میڈیسن |
صحافی اس سروس سے فائدہ کیسے اٹھائیں؟
حکومت نے میڈیا ورکرز کے مصروف شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سروس تک رسائی کو انتہائی آسان اور بغیر کسی طویل کاغذی کارروائی کے ڈیزائن کیا ہے:
پریس کلب کارڈ یا میڈیا شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے
جب بھی آپ کے پریس کلب یا میڈیا ہاؤس کے باہر کلینک آن ویلز سروس کا کیمپ لگے تو اپنا آفیشل میڈیا شناختی کارڈ (Company ID Card) یا پریس کلب کی ممبرشپ کا کارڈ اپنے ساتھ لازمی رکھیں۔ یہ کارڈ آپ کی اور آپ کی فیملی کی فوری رجسٹریشن کے لیے بطور ثبوت استعمال ہوگا۔
لوکل کیمپ شیڈول سے باخبر رہیں
محکمہ صحت پنجاب پریس کلب انتظامیہ کے ساتھ مل کر ان گاڑیوں کی آمد کا ہفتہ وار روٹ شیڈول جاری کرتا ہے۔ اپنے ادارے کے نوٹس بورڈ یا پریس کلب کے آفیشل واٹس ایپ گروپس کے ذریعے معلوم کریں کہ یہ موبائل کلینک کس دن آپ کے قریبی پوائنٹ پر دستیاب ہوگا۔
فیملی ممبرز کا اندراج
اگر آپ اپنے والدین، شریکِ حیات یا بچوں کا معائنہ کروانا چاہتے ہیں، تو ان کے شناختی کارڈ (CNIC) یا بچوں کے فارم ب (B-Form) کی کاپی ساتھ لائیں تاکہ ان کا ڈیٹا سینٹرلائزڈ رپورٹنگ سسٹم میں درست طور پر درج کیا جا سکے۔
صحافی برادری ملکی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صحت کی پرواہ کیے بغیر فرائض سرانجام دیتی ہے اس لیے حکومت کا یہ قدم ان کی سماجی اور طبی حفاظت کے لیے ایک بہترین کاوش ہے۔ اس مفت صحت کی سہولت سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور اپنے ساتھی میڈیا ورکرز کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کریں۔






