حکومتِ پاکستان مالیاتی سال 2026-27 کے لیے ملک کا اگلا وفاقی بجٹ اگلے ہفتے قومی اسمبلی میں پیش کرنے جا رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے بیل آؤٹ پروگرام کی سخت شرائط کے تحت اس بار وفاقی ریوینیو کا مجموعی ہدف 17.1 ٹریلین (17 لاکھ 10 ہزار کروڑ) روپے مقرر کیا گیا ہے. یہ ہدف رواں مالیاتی سال کے مقابلے میں 2 ٹریلین روپے سے زائد کا غیر معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ معاشی استحکام اور آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے اس بجٹ میں سخت ترین اقدامات، دستاویزی معیشت کے لیے ڈیجیٹل اصلاحا اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی پُرعزم تیاریاں کی گئی ہیں۔
آئی ایم ایف کا ریوینیو ہدف اور ایف بی آر کا پلان
پاکستان کے نئے بجٹ کا بنیادی محور ٹیکسوں کی وصولی میں ریکارڈ اضافہ کرنا ہے۔
ایف بی آر کا ہدف: فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (FBR) کو مجموعی طور پر 15.264 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ یہ موجودہ سال کی وصولیوں سے تقریباً 1.84 ٹریلین روپے زیادہ ہے۔
نئے بجٹ اقدامات: حکومت رواں بجٹ میں نئے ہنگامی اقدامات اور ٹیکس ریشو میں ردو بدل کے ذریعے 430 ارب روپے کے اضافی فنڈز حاصل کرے گی۔
انفورسمنٹ اور آڈٹ: بقیہ رقم کی وصولی کے لیے نئے ٹیکس لگانے کے بجائے ٹیکس چوری روکنے، سخت آڈٹ، انفورسمنٹ اور ڈیجیٹل اصلاحات پر انحصار کیا جائے گا۔
صوبائی عزم: چاروں صوبائی حکومتوں نے بھی سروسز پر سیلز ٹیکس اور زرعی انکم ٹیکس کی بہتر وصولی کے ذریعے مجموعی طور پر 430 ارب روپے کا اضافی ریونیو پیدا کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
ترقیاتی بجٹ اور میکرو اکنامک فریم ورک
ملک کی معاشی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ترقیاتی فنڈز کو متوازن رکھا گیا ہے۔
نیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام: جون کے پہلے ہفتے میں ہونے والے سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (APCC) اور نیشنل اکنامک کونسل (NEC) کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں 3.5 ٹریلین روپے سے زائد کے مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی جائے گی۔
معاشی ترقی کا ہدف: وفاقی حکومت نے نئے مالیاتی سال کے لیے معاشی شرحِ نمو (GDP Growth) کا ہدف 4.1 فیصد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی و صوبائی ترقیاتی فنڈز: وفاقی پی ایس ڈی پی (PSDP) کے علاوہ، صوبائی حکومتوں کا ترقیاتی بجٹ تقریباً 2.5 ٹریلین روپے تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ کے حوالے سے باقاعدہ دستاویزات، پرانے مالیاتی آپریشنز کی ہسٹری اور پبلک فنانس ڈیٹا کی تفاصیل کے لیے آپ وزارتِ خزانہ پاکستان (Finance Division) کے آفیشل پورٹل کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
سبسڈیز میں کٹوتی اور اہم اصلاحات
آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت بجٹ میں عوامی سبسڈیز کو محدود کرنے کی سخت گائیڈ لائنز شامل کی گئی ہیں۔
پاور سیکٹر سبسڈیز: بجلی کے شعبے میں دی جانے والی کل سبسڈیز کی حد 830 ارب روپے پر منجمد (Cap) کر دی گئی ہے۔
گردشی قرضہ: مالیاتی سال 2027 کے اختتام تک پاور سیکٹر کے گردشی قرضے (Circular Debt) کے نئے بہاؤ کو صفر (Net Zero Flow) پر لانے کا ہدف طے پایا ہے۔
مارکیٹ مداخلت میں کمی: حکومت گندم اور چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مارکیٹ میں براہِ راست مداخلت کم کرے گی، اور جون 2026 تک ایک جامع نیشنل شوگر پالیسی نافذ کی جائے گی۔
ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ: اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) اور ٹیکنالوجی زونز کو ملنے والی خصوصی ٹیکس مراعات اور چھوٹ کو بھی مرحلہ وار ختم کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔
ملک کی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پلاننگ اور آئی ٹی سیکٹر میں ہونے والی نئی پیشرفت جاننے کے لیے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام (MoITT) کی آفیشل گائیڈ لائنز دیکھی جا سکتی ہیں۔
عوام اور کاروباری طبقے پر ممکنہ اثرات
پاکستان کا نیا بجٹ جہاں ایک طرف معیشت کو سہارا دینے کی کوشش ہے وہیں عام شہریوں اور تنخواہ دار طبقے کے لیے مہنگائی کے اس دور میں چیلنجز بھی لا سکتا ہے۔ نان فائلرز پر کسٹمز ڈیوٹی اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح مزید بڑھنے کا امکان ہے جبکہ ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر کو لازمی طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے سخت اقدامات متوقع ہیں۔ حکومت کا بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ وہ آئی ایم ایف کے سخت مالیاتی اہداف کو پورا کرتے ہوئے عام آدمی کو پٹرولیم اور بنیادی اشیاء پر کتنا ریلیف فراہم کر پاتی ہے۔






