Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

ایران تنازع کے پاکستان پر اثرات: بلوچستان کی سیکیورٹی اور پاک ایران بارڈر ٹریڈ کا مستقبل

ذیشان خان by ذیشان خان
جولائی 28, 2026
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز, بین الاقوامی خبریں – عالمی سیاست، جنگ، تنازعات اور سفارت کاری
پاک ایران سرحد اور بلوچستان کی سلامتی

کوئٹہ: مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ/اسرائیل کے مابین جاری حالیہ کشیدگی اور ہرمز کی ناکہ بندی نے پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے مابین 900 کلومیٹر طویل پورٹس بارڈر (Porous Border) جڑا ہوا ہے جو بلوچستان کے مکران اور رخشان ڈویژن کو ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان سے ملاتا ہے۔ ایران کا یہ علاقائی تنازع نہ صرف پاک ایران سرحد اور بلوچستان کی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی بارڈر ٹریڈ کو بھی ایک نئے اسٹریٹجک موڑ پر لے آیا ہے۔

بلوچستان کی سیکیورٹی پر ایران تنازع کے اثرات اور عسکریت پسندی

ایران میں اندرونی ابتری یا بیرونی فوجی دباؤ کا سب سے پہلا اثر بارڈر مینجمنٹ پر پڑتا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایران کی سرحد پر نگرانی کمزور ہونے سے اس خطے میں سرگرم عسکریت پسند تنظیموں جیسے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور دیگر کالعدم تنظیموں کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے ایران کے سرحدی علاقوں (جیسے سراوان) میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

سرحدی سیکیورٹی پر پڑنے والے اثرات درج ذیل ہیں:

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت: ایرانی سرحد کی کمزور نگرانی کے باعث دہشت گردوں کو کراس بارڈر نقل و حرکت اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

داعش (ISKP) کا خطرہ: ایران میں عدم استحکام سے داعش خراسان جیسے شدت پسند گروہ بلوچستان میں اپنے نیٹ ورک کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب میں عارضی اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے درخواستیں طلب

سیکیورٹی وسائل پر دباؤ: پاک فوج اور فرنٹیئر کونسٹیبلری (FC) کو افغان سرحد کے ساتھ ساتھ اب مغربی سرحد پر بھی غیر معمولی نفری تعینات کرنی پڑ رہی ہے۔

پاک ایران بارڈر ٹریڈ اور پٹرولیم کی سپلائی میں خلل

سیکیورٹی کے بعد دوسرا بڑا دھچکا تجارتی شعبے کو لگا ہے۔ پاکستان اور ایران کے مابین سالانہ غیر رسمی اور رسمی تجارت کا حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔ بلوچستان کی پوری ساحلی پٹی اور مکران ڈویژن کا دارومدار ایرانی مصنوعات بالخصوص سستے پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی (LPG) پر ہے۔ روزانہ تقریباً 4,000 ٹن ایرانی ایندھن بلوچستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ ایران میں ریفائنریوں پر حملوں یا سپلائی چین متاثر ہونے کی صورت میں بلوچستان میں سستے پٹرول کی سپلائی بند ہو سکتی ہے جس سے مقامی ٹرانسپورٹیشن اور روزگار بری طرح متاثر ہوگا۔

اس کے علاوہ مکران کا خطہ اپنی 70 فیصد سے زائد بجلی کی ضروریات (تقریباً 142 میگاواٹ) کے لیے ایرانی گرڈ پر انحصار کرتا ہے۔ ایرانی پاور انفراسٹرکچر پر حملوں کی صورت میں مکران ڈویژن میں شدید بلیک آؤٹ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ 

حالیہ سفارتی کوششیں اور سڑک کے راستے نئی تجارتی راہداریاں

ان تمام چیلنجز کے باوجود، حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد اور تہران کے مابین اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ جولائی 2026 میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی اور وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ دونوں ممالک نے کاؤنٹر ٹیررازم، بارڈر سیکیورٹی اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  غیر تصدیق شدہ سم پر واٹس ایپ بند: پی ٹی اے کا اہم انتباہ اور مکمل گائیڈ

سمندری تجارتی راستوں (Strait of Hormuz) پر ناکہ بندی کے باعث پاکستان نے ایران کے لیے زمینی راستے کھول دیے ہیں۔ گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم سے گبد اور تفتان بارڈر کراسنگز کے ذریعے روزانہ سینکڑوں مال بردار ٹرکوں کی آمد و رفت جاری ہے جس کا مقصد زرعی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔ اگر حکومتِ پاکستان ان زمینی راہداریوں کو محفوظ بنا لیتی ہے اور مقامی بلوچ آبادی کو اس تجارت میں اسٹیک ہولڈر بناتی ہے تو ایران کا یہ بحران بلوچستان کے لیے ایک بڑی معاشی موقع میں بھی بدل سکتا ہے۔

ذیشان خان

ذیشان خان

ذیشان خان ایک کرائم اور قانون سے متعلق رپورٹر ہیں جو نظامِ انصاف اور پولیس اصلاحات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں عدالتی نظام کی بہتری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، اور عوامی انصاف کے موضوعات پر روشنی ڈالتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

قومی شناخت

ڈائاسپورہ ڈپلومیسی اور قومی شناخت: عالمی دارالحکومتوں میں پاکستانی مشنز اور نئی نسل کا فکری ارتباط

اگست 17, 2026
حج 2027

حج 2027 کی درخواستوں کی تاریخ تبدیل: وزارت مذہبی امور کا نیا شیڈول جاری

اگست 17, 2026
سندھ میں گیس کے نئے ذخائر کی دریافت

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کی سندھ کے ضلع سجاول میں نئی گیس اور کنڈنسیٹ دریافت

اگست 17, 2026
پاکستان اور مصر زرعی تعاون

پاکستان اور مصر زرعی تعاون: کپاس کی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کا فیصلہ

اگست 17, 2026
پاکستان اور ازبکستان تجارتی معاہدہ

پاکستان اور ازبکستان تجارتی معاہدہ: ازبک مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں تاریخی کمی

اگست 17, 2026
مکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کی حمایت

مکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کی حمایت: وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ تشکر اور علاقائی امن کا عزم

اگست 17, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

قومی شناخت

ڈائاسپورہ ڈپلومیسی اور قومی شناخت: عالمی دارالحکومتوں میں پاکستانی مشنز اور نئی نسل کا فکری ارتباط

اگست 17, 2026
حج 2027

حج 2027 کی درخواستوں کی تاریخ تبدیل: وزارت مذہبی امور کا نیا شیڈول جاری

اگست 17, 2026
سندھ میں گیس کے نئے ذخائر کی دریافت

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کی سندھ کے ضلع سجاول میں نئی گیس اور کنڈنسیٹ دریافت

اگست 17, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.