پاکستان کے عدالتی انفراسٹرکچر، قانونی سیکیورٹی کوریڈورز، سپریم کورٹ مانیٹرنگ اور بین الاقوامی سفارت کاری کے محاذ سے ایک انتہائی دور رس، انقلابی اور تزویراتی معاشی و انتظامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور جنوبی کوریا نے باقاعدہ طور پر اپنے عدالتی نظاموں کے مابین باہمی روابط کو بڑھانے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے خطوط پر مربوط ہونے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
آج 29 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی بیٹھک کے دوران اسمارٹ عدالتی شراکت داری کا روڈ میپ لائیو کر دیا گیا ہے۔ اس فلیگ شپ کوریڈور کے نفاذ کے بعد اب باقاعدہ طور پر پاک کوریا عدالتی تعاون فروغ کا سوفٹ وئیر بیسڈ فریم ورک فعال ہو چکا ہے جس کا بنیادی مقصد مینوئل دفتری تاخیر، کلرک مافیا کے لوپ ہولز اور مقدمات کے مینوئل التوا کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور کورین سفیر کی بیٹھک، کلاؤڈ کورٹ مینجمنٹ پر تبادلہ خیال
یہ اہم ترین پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان میں تعینات جنوبی کوریا کے سفیرِ غیر معمولی ہان سنگھو نے اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ان کے چیمبر میں ایک باضابطہ اور اہم ملاقات کی۔
اس ڈیجیٹل کوریڈور کے تین بنیادی آپریٹنگ پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
کورین عدالتی آٹومیشن کا نفاذ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ کے پاس موجود جوڈیشل آٹومیشن اور ٹیکنالوجی سے لائیو لیس کورٹ ایڈمنسٹریشن کے وسیع تجربے کا اعتراف کیا اور واضح کیا کہ یہ ماڈل پاکستان کے انڈیکس کو بہتر بنائے گا۔
ڈیجیٹل انٹیگریشن کٹس : ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے مابین قریبی ادارہ جاتی روابط پاکستان کے سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور ذیلی عدالتوں کے جاری ڈیجیٹلائزیشن پراجیکٹس کو لائیو کلاؤڈ سپورٹ فراہم کریں گے۔
پیپر لیس اور کیش لیس لاگز: عدالتی ریکارڈز کو 100 فیصد محفوظ، انکرپٹڈ اور پیپر لیس بنانے کے لیے کورین سوفٹ وئیر مینیجرز پاکستانی عدالتی اسٹاف کو جدید ترین اسمارٹ ٹریننگز فراہم کریں گے۔
ایم او یو کی تیاری اور چیف جسٹس کا دورۂ سیول
ملاقات کے دوران دونوں اعلیٰ مینیجرز نے پاکستان اور جنوبی کوریا کی عدالتوں کے مابین مجوزہ مفاہمت کی یادداشت کے فائنل ڈرافٹ کا آڈٹ کیا۔ یہ تاریخی ایم او یو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے آئندہ دورۂ سیول (جنوبی کوریا) کے دوران باقاعدہ طور پر لائیو سائن کیا جائے گا جس کے بعد دونوں ممالک کے قانونی ٹرانزیکشن لاگز خودکار طریقے سے مربوط ہو جائیں گے۔
کورین سفیر ہان سنگھو نے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں جاری حالیہ ساختی اور اسمارٹ اصلاحات کو زبردست سراہا اور یقین دلایا کہ ان کی حکومت کونسل رولز کے تحت پاکستان کے عدالتی اشاریوں کو بہتر بنانے اور کریڈٹ ریٹنگ بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ یہ پائیدار سفارتی رخ بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر بلند کرے گا جو طویل مدتی بیرونی سرمایہ کاری کرنے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔






