پاکستان کے شہری انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ لاجسٹکس، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور پبلک سروس ڈیلیوری کے تزویراتی کوریڈورز سے تعمیراتی لاگت اور ڈویلپمنٹ فریم ورک کے حوالے سے ایک اہم، ہنگامی اور بڑا مالیاتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ مال روڈ کو ٹریفک کے مینوئل دباؤ سے پاک کرنے کے لیے مینوفیکچر کیے جانے والے فلیگ شپ سگنل فری پروجیکٹ کے تحت نامزد کردہ مختلف انڈر پاسز کی تعمیراتی لاگت میں کروڑوں روپے کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث پورے پراجیکٹ کے الائنمنٹ گرڈ کو رینیو کرتے ہوئے ایک بڑے انڈر پاس منصوبے کو یکسر خارج کر دیا گیا ہے۔
اکتوبر 2026 کو ترقیاتی مینیجرز اور فنانشل آڈٹ سیل کی جانب سے جاری کردہ آفیشل لاگز کے مطابق اس ریگولیٹری ساختی تبدیلی کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر مال روڈ سگنل فری پروجیکٹ لاگت کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر لائیو فعال ہو چکا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مٹیریل ٹریف رولز اور انجینئرنگ کٹس میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ریس کورس اور چیئرنگ کراس انڈر پاسز کے فنانشل فنڈز میں غیر معمولی اسمارٹ اضافہ ہوا ہے جس نے ترقیاتی بجٹ پر مینوئل دباؤ مینوفیکچر کر دیا ہے. اس ری مڈلنگ کا بنیادی ہدف فنانشل کیش بلیڈ کو روک کر تعمیراتی کوالٹی کو 100 فیصد سوفٹ وئیر مانیٹرنگ فراہم کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور بہترین شہری انتظامی صلاحیت مستقل طور پر برقرار رکھی جا سکے۔
ریس کورس اور چیئرنگ کراس انڈر پاسز کی لاگت کا آڈٹ اور تقابلی بریک ڈاؤن
ترقیاتی مینیجرز کی جانب سے پورٹل پر لائیو سنک کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دونوں مرکزی انڈر پاسز کی تعمیراتی لاگت پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں بہت زیادہ وائٹ لسٹ کی گئی ہے۔
پروجیکٹ فنڈز کی اس تبدیلی کا تفصیلی مینوفیکچرڈ بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق آٹو لاک کر دیا گیا ہے:
| انڈر پاس پروجیکٹ لاگ کوڈ | سابقہ منظور شدہ لاگت انڈیکس | موجودہ نئی لاگت | نیٹ فنانشل اضافہ حجم( |
| ریس کورس انڈر پاس | 3,091.090ملین روپے | 4,459.904ملین روپے | مثبت 1,368.814 ملین روپے |
| چیئرنگ کراس انڈر پاس | 2,588.654ملین روپے | 3,490.273 ملین روپے | مثبت 901.619 ملین روپے |
| قبرستان چوک انڈر پاس | 2,679.328 ملین روپے | 1,595.095ملین روپے | منفی 1,084.233 ملین (ڈراپڈ) |
اس آڈٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ اکیلے ریس کورس انڈر پاس کی لاگت میں 1.36 ارب روپے سے زائد کا خطیر اضافہ ہوا ہے جبکہ چیئرنگ کراس انڈر پاس کا فریم ورک بھی 901 ملین روپے اضافی کیپیٹل ان پٹ مانگ رہا ہے۔
قبرستان چوک پراجیکٹ کا اخراج اور پشاور روڈ کی اسمارٹ ری مڈلنگ
پراجیکٹ کے مجموعی مالیاتی بوجھ کو لکویڈیٹی فراہم کرنے اور فیسکل خسارے کو مینیج کرنے کے لیے کارپوریٹ مینیجرز نے ایک بڑا سمارٹ فیصلہ کیا ہے۔ آرمی قبرستان چوک پر مجوزہ تیسرا انڈر پاس اب مینول پلان سے یکسر خارج کر دیا گیا ہے جس کے باعث اس مخصوص انٹرسیکشن کا بجٹ 2.67 ارب سے گھٹ کر محض 1.59 ارب روپے پر لاک ہو گیا ہے۔
اس ریگولیٹری تبدیلی کے بعد اب پشاور روڈ کے کوریڈور پر تین کے بجائے صرف دو انڈر پاسز مینوفیکچر کیے جائیں گے۔ ٹریفک فلو کو بغیر کسی رکاوٹ کے لائیو فعال رکھنے کے لیے آرمی قبرستان چوک کو پشاور روڈ کے ساتھ ڈبل روڈ کے ذریعے آٹو لنک کر دیا گیا ہے۔ اور پورے انٹرسیکشن کی ری مڈلنگ متعارف کروائی گئی ہے تاکہ کسی بھی ٹریفک ہالٹ کے خطرے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ یہ مربوط اور پیپر لیس آپریشنل ماڈل ملکی شہری انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے جس کی حتمی دستاویزی فائل نادرا اور جیو لوکیشن کلاؤڈ سسٹمز پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔






