محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہائیڈرو لوجیکل رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے دریا، دریائے سندھ میں مختلف مقامات پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس وقت کالا باغ، گدو اور سکھر بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے جس کی وجہ سے نشیبی علاقوں اور کچے کے مقامات پر انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ دریائے سندھ کے بالائی مقامات بشمول تربیلا، چشمہ اور نیچے تونسہ اور کوٹری بیراج پر پانی کی آمد و اخراج بالکل نارمل ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے دیگر بڑے دریاؤں میں پانی کا نظام قابو میں ہے اور کسی بڑے خطرے کے آثار نہیں ہیں۔
دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال: کالا باغ، گدو اور سکھر بیراج کے تازہ ترین اعداد و شمار
دریائے سندھ میں آنے والے حالیہ پہاڑی ریلوں اور مون سون کی بارشوں کے باعث تین اہم سٹریٹجک مقامات پر پانی کی سطح نچلے درجے کے سیلاب کو چھو رہی ہے۔ ان مقامات پر پانی کی آمد کا تفصیلی ڈیٹا درج ذیل ہے:
کالا باغ ہیڈ ورکس: کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کے تحت پانی کی آمد 273,608 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جو نچلے درجے کے سیلاب کی حد میں آتی ہے۔
گدو بیراج (سندھ): صوبہ سندھ کے دوار یعنی گدو بیراج پر اس وقت پانی کا بہاؤ 258,811 کیوسک رپورٹ ہوا ہے۔ کچے کے علاقوں میں پانی پھیلنے کی وجہ سے آبادی کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سکھر بیراج: سکھر کے مقام پر پانی کا دباؤ اس وقت سب سے زیادہ ہے جہاں سے 287,583 کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ مانیٹرنگ ٹیمیں چوبیس گھنٹے بیراج کے پھاٹکوں کی نگرانی کر رہی ہیں۔
ان تینوں مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہونے کے باوجود پشتے اور حفاظتی بند بالکل محفوظ ہیں اور صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔
دریائے سندھ میں کالا باغ، گڈو اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرارہے جبکہ تربیلا، چشمہ، تونسہ اور کوٹری کے مقامات پر پانی کا بہاؤمعمول کے مطابق ہے۔،محکمہ موسمیات کے مطابق دریائے کابل نوشہرہ، جہلم، چناب، راوی اور دریائے ستلج میں بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ تربیلا ڈیم… pic.twitter.com/02epfOaG4X
— PTV News (@PTVNewsOfficial) August 3, 2026
تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ اور موجودہ سطح
ملک کے دو سب سے بڑے پانی کے ذخائر یعنی تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم میں پانی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جس سے ملک میں پن بجلی کی پیداوار اور خریف کی فصلوں کے لیے پانی کی دستیابی میں بہتری آئے گی۔
تربیلا ڈیم (دریائے سندھ): تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1,543 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ ڈیم اپنی انتہائی سطح (Dead Level) سے کافی اوپر ہے اور پانی کا اخراج معمول کے مطابق برقرار رکھا جا رہا ہے تاکہ ڈاؤن اسٹریم چشمہ اور تونسہ کو پانی مل سکے۔
منگلا ڈیم (دریائے جہلم): منگلا ڈیم میں پانی کی سطح اس وقت 1,199 فٹ درج کی گئی ہے۔ منگلا میں پانی کا یہ ذخیرہ آنے والے موسمِ سرما کی فصلوں (ربیع) کے لیے انتہائی معاون ثابت ہوگا۔
دریائے کابل، جہلم، چناب، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ
محکمہ موسمیات اور انڈس واٹر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک کے دیگر تمام مشرقی اور مغربی دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مکمل طور پر نارمل ہے۔
دریائے کابل: نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، جس سے چارسدہ اور پشاور کے علاقوں کو فی الحال کوئی سیلابی خطرہ نہیں ہے۔
دریائے راوی: راوی میں جسر، شاہدرہ (لاہور)، بلوکی اور سدھنائی ہیڈ ورکس کے مقامات پر پانی کی سطح بالکل نارمل ہے۔ بھارت کی طرف سے کسی قسم کا غیر متوقع پانی نہیں چھوڑا گیا۔
دریائے ستلج: ستلج ندی میں بھی گنڈا سنگھ والا (قصور)، سلیمانکی اور اسلام ہیڈ ورکس کے مقامات پر بہاؤ قابو میں ہے اور کچے کے علاقوں میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔
مجموعی طور پر اگرچہ دریائے سندھ کے چند مقامات پر پانی کا دباؤ زیادہ ہے لیکن نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور صوبائی محکمہ نہریں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔






