پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ لاہور الیکٹرک ٹرام پروجیکٹ کے باقاعدہ آغاز اور پروکیورمنٹ (خریداری) کے مراحل تیزی سے جاری ہیں جس کا مقصد شہر میں فضائی آلودگی کو کم کرنا اور شہریوں کو سستی، تیز رفتار اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ ٹریک لیس (بغیر پٹری) ٹیکنالوجی یعنی آٹومیٹڈ ریپڈ ٹرانزٹ (ART) اور سپر اٹونومس ریپڈ ٹرانزٹ (SART) پر مبنی ہے جو جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا جدید ترین نیٹ ورک ہو گا۔
لاہور الیکٹرک ٹرام پروجیکٹ کے نئے اور فائنل روٹس
پہلے مرحلے میں اس منصوبے کے لیے کینال روڈ کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن حالیہ ٹریفک سروے اور عوامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اس کے بنیادی روٹ میں کچھ اہم تبدیلیاں کی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافر اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
1۔ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (CBD) تا استنبول چوک
یہ اس منصوبے کا سب سے اہم اور مرکزی کمرشل روٹ ہے۔ یہ ٹرام سی بی ڈی کلمہ چوک سے شروع ہو کر مین بلیوارڈ گلبرگ اور جیل روڈ سے گزرتی ہوئی مال روڈ کے ساتھ استنبول چوک پر جا کر اختتام پذیر ہو گی۔ اس روٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر کے دوران شہر کا کوئی بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا جس سے لاہور کی قدرتی خوبصورتی برقرار رہے گی۔
2۔ کینال روڈ الائنمنٹ (آزمائشی ٹریک)
منصوبے کا دوسرا روٹ کینال روڈ پر محیط ہے جو ٹھوکر نیاز بیگ سے ہربنس پورہ تک کے 27 کلومیٹر طویل ٹکڑے پر مشتمل ہے۔ یہ لاہور کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے جہاں ابتدائی تجرباتی رن (Trial Runs) کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
مجوزہ اسٹیشنز کی فہرست اور اہم اسٹاپس
انجینئرز اور ٹریفک ماہرین کی جانب سے اس الیکٹرک ٹرام کے لیے تقریباً 1 سے 1.5 کلومیٹر کے فاصلے پر اسمارٹ اسٹیشنز ڈیزائن کیے جا رہے ہیں۔ مرکزی روٹ کے اہم مجوزہ اسٹیشنز درج ذیل ہیں:
سی بی ڈی کلمہ چوک ٹرمینل (فیروز پور روڈ میٹروبس کے ساتھ انٹرچینج کنکشن)
قذافی اسٹیڈیم اسٹاپ (کھیلوں کے شائقین کے لیے خصوصی رسائی)
لبرٹی مارکیٹ ہب (خریداری کے لیے آنے والوں کا بڑا مرکز)
مین بلیوارڈ گلبرگ
منی مارکیٹ / مین مارکیٹ
ایم ایم عالم روڈ اسٹاپ
حالی روڈ انٹرسیکشن
جیل روڈ / کینال جنکشن
مال روڈ اسپائن
استنبول چوک ٹرمینل
متوقع ٹکٹ کے کرائے اور سفری اخراجات
پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (PMTA) نے کرایوں کے ڈھانچے کو انتہائی سستا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عام شہری اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔
ٹرائل فیز (آزمائشی مرحلہ): ٹرام کے آغاز کے پہلے چند ماہ کے دوران شہریوں کے لیے سفر بالکل مفت ہوگا۔
کمرشل فیز (باقاعدہ آغاز): باقاعدہ آغاز پر فی سفر کرایہ 20 سے 30 روپے تک متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کا کرایہ اورنج لائن ٹرین کی طرح فاصلے کے بجائے میٹروبس نیٹ ورک کی طرح فلیٹ ریٹ پر مبنی ہوگا۔
ٹرام کی تکنیکی خصوصیات اور مسافروں کی گنجائش
چین کے تعاون سے تیار کردہ اس جدید ٹریک لیس ٹرام (ART) میں پٹریوں یا اوور ہیڈ تاروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ سڑک پر لگی ورچوئل لائنز، سینسرز اور جی پی ایس کی مدد سے خودکار طریقے سے چلتی ہے۔
| خصوصیت | تفصیلات |
| مسافروں کی گنجائش | 3 کوچز پر مشتمل ایک ٹرام میں 250 سے 320 مسافروں کی گنجائش |
| چارجنگ کا وقت | صرف 10 منٹ کی تیز رفتار چارجنگ |
| سفری رینج | ایک بار فل چارج ہونے پر 25 سے 27 کلومیٹر تک سفر کی سہولت |
| اندرونی سہولیات | جدید ایئر کنڈیشنڈ سسٹم، سی سی ٹی وی کیمرے، اور مفت وائی فائی (Wi-Fi) |
لاہور الیکٹرک ٹرام پروجیکٹ نہ صرف لاہور کے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بدل کر رکھ دے گا بلکہ یہ ماحول دوست ٹیکنالوجی اسموگ اور بڑھتی ہوئی ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے میں بھی ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔ حکومت کی منصوبہ بندی کے مطابق مالیاتی سال 2026-2027 کے دوران یہ سروس باقاعدہ طور پر عوام کے لیے کھول دی جائے گی۔
مزید اہم الرٹس اور تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






