حکومتِ خیبر پختونخوا نے مالی سال 2026-27 کے لیے 2.17 ٹریلین روپے کا ایک جامع اور عوام دوست بجٹ پیش کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی کابینہ نے اس بجٹ کی منظوری دی جس کا بنیادی مقصد صوبے کے عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس بجٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، جس کی وجہ سے اسے ایک مثالی ٹیکس فری بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا بجٹ 2026-27 کے اہم ترین معاشی اعداد و شمار
صوبائی حکومت نے موجودہ معاشی چیلنجز کے باوجود ایک متوازن بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بجٹ کے مجموعی خدوخال درج ذیل ہیں:
مجموعی حجم: 2.17 ٹریلین (2170 ارب) روپے۔
صوبائی آمدنی کا ہدف: 2.12 ٹریلین روپے۔
بجٹ خسارہ: 48 ارب روپے، جسے صوبہ اپنے وسائل سے پورا کرے گا اور کوئی نیا قرضہ نہیں لیا جائے گا۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP): ترقیاتی منصوبوں کے لیے 524.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی منتقلی اور گرانٹس: وفاق سے 1.5 ٹریلین روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
صوبائی حکومت نے مہنگائی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے ریلیف اقدامات کا اعلان کیا ہے:
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ: تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
الاؤنسز کا انضمام: سال 2022 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ (Basic Salary) میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کنوینس الاؤنس: عام ملازمین کے لیے کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد جبکہ خصوصی کنوینس الاؤنس کو 6,000 سے بڑھا کر 10,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
کم از کم اجرت: صوبے میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 45,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے تاریخی فنڈز
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق تعلیم اور صحت صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان شعبوں کے لیے رقم کی تقسیم کچھ یوں ہے:
شعبہ تعلیم (Education Sector)
تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے مجموعی طور پر 468 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے لیے 363 ارب روپے اور ہائر ایجوکیشن کے لیے 45 ارب روپے دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، غریب طلبہ کے لیے مفت درسی کتب (Free Textbooks) کی فراہمی کے لیے 8.5 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔
شعبہ صحت (Healthcare Sector)
صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 334 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ جس میں سے 276.54 ارب روپے براہِ راست طبی سہولیات اور ہسپتالوں کے جاری و نئے منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ بجٹ کا 82 فیصد حصہ پہلے سے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے اور 18 فیصد نئے ہیلتھ کارڈ و دیگر ریلیف پروگرامز کے لیے استعمال ہوگا。
کاروبار اور زراعت کے لیے خصوصی مراعات
معاشی پہیہ تیز کرنے اور تاجر برادری کو سہولت دینے کے لیے صوبائی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیز (Cess) کو 2 فیصد سے کم کر کے 0.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے صوبے میں کاروبار کرنے کی لاگت میں واضح کمی آئے گی۔
زراعت کے شعبے میں کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے ڈی اے پی (DAP) کھاد پر سبسڈی کو 600 ملین سے بڑھا کر 2 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ بلدیاتی اداروں کے لیے 90 ارب روپے اور توانائی کے شعبے کے لیے 42 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا سکے۔
ڈیجیٹل گورننس اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ
جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے خیبر پختونخوا بجٹ 2026-27 میں پہلی بار ایک نئی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پشاور کے شہریوں کے لیے پبلک مقامات اور تعلیمی اداروں میں ‘مفت پبلک وائی فائی’ (Free Public WiFi) منصوبہ شروع کرنے کے لیے 500 ملین روپے بجٹ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔






