پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ملک کی اعلیٰ تعلیمی تاریخ میں ایک اور انقلابی اور جدید ترین سنگِ میل عبور کرنے کی مکمل تیاری کر لی ہے۔ عالمی سطح پر تیزی سے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت، فب ٹیک اور ویب تھری کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایچ ای سی نے پاکستان بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی باقاعدہ تعلیمی کورسز اور ڈگری پروگرامز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد پاکستانی سافٹ ویئر انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز اور فنانس کے طلبہ کو جدید ترین عالمی مینوفیکچرنگ اور سائنسی فریم ورک سے لیس کرنا ہے۔ وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان وژن اور سائنسی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کردہ یہ کورسز نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن بلاک چین کورسز کا تعلیمی فریم ورک اور نصاب
ایچ ای سی کی قومی نصاب کمیٹی نے نامور ملکی اور بین الاقوامی ماہرینِ ٹیکنالوجی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے نمائندوں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد اس جدید نصاب کو حتمی شکل دی ہے۔
ان ہائیر ایجوکیشن کمیشن بلاک چین کورسز کو بنیادی طور پر درج ذیل تین سطحوں پر نافذ کیا جائے گا:
شارٹ کورسز اور سرٹیفیکیشنز: فری لانسنگ اور فوری روزگار کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے 3 سے 6 ماہ کے خصوصی ٹریننگ پروگرامز جن کی مالیاتی اور تکنیکی معاونت نافٹیک (NAVTTC) کے ذریعے فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
الیکٹو سبجیکٹس: بی ایس کمپیوٹر سائنس ، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور بی بی اے (BBA) کے آخری سال کے طلبہ کے لیے لازمی انتخابی مضامین کے طور پر ان کورسز کو شامل کیا جائے گا۔
خصوصی ڈپلومہ اور ڈگریز: مستقبل میں ویب تھری اور ڈیجیٹل فنانس کے اندر باقاعدہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اور ایم ایس (MS) ڈگری پروگرامز کا آغاز کیا جائے گا۔
کرپٹو اور بلاک چین تعلیم کی ضرورت اور معاشی فوائد
پاکستان میں طویل عرصے سے کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت اور اس کی ٹریڈنگ کے حوالے سے مختلف مباحثے جاری رہے ہیں۔ تاہم حکومت کا ماننا ہے کہ کرپٹو کے تجارتی استعمال سے ہٹ کر اس کی بنیادی ٹیکنالوجی یعنی بلاک چین کو سیکھنا ملکی بقا اور سیکیورٹی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کو درج ذیل بڑے فوائد حاصل ہوں گے:
شفاف گورننس اور ای آفس: بلاک چین کی مدد سے کسٹمز، نادرہ کے ڈیٹا بیس، اور سرکاری املاک کے ریکارڈ کو مکمل طور پر محفوظ اور ناقابلِ تبدیل بنایا جا سکتا ہے۔
ٹیکس چوری کا خاتمہ: ایف بی آر کے الیکٹرانک انوائس مانیٹرنگ سسٹم کو بلاک چین سے لنک کر کے ریٹیل سیکٹر کے بلنگ ریکارڈ میں ہیر پھیر کو ہمیشہ کے لیے روکا جا سکتا ہے۔
عالمی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ: دنیا بھر میں بلاک چین ڈویلپرز کی شدید قلت ہے؛ پاکستان اس تعلیم کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو انٹرنیشنل سرٹیفیکیشنز دلا کر ملکی آئی ٹی ایکسپورٹس کو 30 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچا سکتا ہے۔
جامعات کے لیے گائیڈ لائنز اور اساتذہ کی خصوصی تربیت
ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ ان کورسز کا آغاز مرحلہ وار کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں پاکستان کی سرفہرست آئی ٹی یونیورسٹیز (جیسے نسٹ، نیسکوم، فاسٹ، اور یو ای ٹی) میں پائلٹ پراجیکٹس شروع کیے جائیں گے۔
چونکہ پاکستان میں اس وقت بلاک چین اور کرپٹو گرافک الگورتھمز پڑھانے والے ماہر اساتذہ کی کمی ہے اس لیے ایچ ای سی نے مائیکروسافٹ، گوگل پاکستان آفس، اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر اساتذہ کے لیے خصوصی ٹرین دی ٹرینر پروگرامز وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں جدید ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ لیبارٹریز بھی قائم کی جائیں گی۔






