وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 14 اگست کی تقریب کے دوران بیوروکریسی کی جانب سے شاہانہ ٹھاٹ باٹھ اور پروٹوکول کے غیر ضروری مظاہرے نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو شدید برہم کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے باقاعدہ طور پر جشن آزادی بگھی ڈرامہ نوٹس لیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذریعے متعلقہ افسران کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے اور سول سرونٹس میں بڑھتے ہوئے نمائش پسندی کے رجحان کو فوری طور پر روکنے کی کڑی ہدایت کی ہے۔
یہ سخت پوزیشن ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد کے چیف کمشنر محمد سہیل اشرف اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (IGP) سید علی ناصر رضوی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو میں دونوں گریڈ 21 کے افسران کو جشنِ آزادی کی ایک سرکاری تقریب میں سجائی گئی شاہی بگھی (ہارس کیریج) پر سوار ہو کر آتے دیکھا گیا، جبکہ ایک اہلکار ان کے پیچھے دھوپ سے بچانے کے لیے چھتری پکڑے کھڑا تھا۔ اس شاہانہ داخلے پر عوامی سطح اور سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا، جس کے بعد وزیراعظم نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ سخت ہدایات اور برہمی
وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وفاقی سیکریٹریز، محکموں اور خود مختار اداروں کے مینیجرز کو ایک باقاعدہ مراسلہ (ڈائریکٹو) جاری کیا ہے۔ اس سرکولر میں واضح کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اس واقعے پر گہری مایوسی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق بیوروکریسی کا یہ طرزِ عمل درج ذیل وجوہات کی بنا پر پبلک سرونٹ کے مینوئل کے بالکل خلاف ہے:
نمائش پسندی اور ذاتی تشہیر: سرکاری افسران کی یہ سواری ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقے اور ذاتی شو آف کا تاثر دیتی ہے جو کہ عوامی خدمت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
عوامی اعتماد کو نقصان: ملک کو درپیش معاشی چیلنجز، مہنگائی اور سادگی مہم کے اس دور میں ایسے شاہانہ پروٹوکول عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بری طرح مجروح کرتے ہیں۔
امانت میں خیانت: بیوروکریسی کو یاد رکھنا چاہیے کہ سرکاری عہدے عوام کی امانت ہیں اور ان کے عہدوں سے عاجزی، وقاراور بہترین اخلاقی فیصلے جھلکنے چاہئیں نہ کہ نوآبادیاتی دور کی شاہی علامتیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا وضاحتی بیان اور پسِ منظر
اس پورے معاملے پر عوامی دباؤ بڑھنے کے بعد وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا تھا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ شاہی بگھی دراصل تقریب کے مہمانِ خصوصی کے لیے تیار کی گئی تھی۔ چونکہ مہمانِ خصوصی اور وہ خود کسی وجہ سے لیٹ ہو گئے تھے اور عوام شام 5 بجے سے انتظار کر رہی تھی اس لیے پروگرام کو مینوئل تاخیر سے بچانے کے لیے افسران کو تقریب شروع کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اگرچہ کسٹمز اور ضلعی مینیجرز کی جانب سے یہ صفائی پیش کی گئی لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پبلک سرونٹس کو کسی بھی حال میں خود کو عوام سے برتر ظاہر کرنے والے ایسے ڈراموں سے دور رہنا چاہیے تھا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس واقعے کا موازنہ ناروے کے وزیر خارجہ سے بھی کیا جو ان ہی دنوں اسلام آباد ایئرپورٹ پر اپنا سامان خود اٹھائے کمرشل فلائٹ سے سفر کرتے دیکھے گئے تھے۔
تمام وزارتوں اور سرکاری ملازمین کے لیے سادگی مینوئل نافذ
جشن آزادی بگھی ڈرامہ نوٹس کے بعد اب حکومت نے تمام سرکاری تقریبات کے لیے نئے مینوفیکچرنگ رولز اور ضوابط وضع کر دیے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے فیصلوں کی روشنی میں تمام افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آفیشل ایونٹس کے دوران مکمل سادگی برقرار رکھیں۔ کسی بھی گریڈ کے افسر کو اپنے ذاتی تشخص یا عہدے کا رعب جمانے کے لیے شاہی بگھیوں، غیر ضروری سیکیورٹی کانوائے یا مینوئل پروٹوکول کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے مینیجرز اور بیوروکریٹس کے خلاف سخت ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔






