حکومتِ پاکستان نے ملک میں پٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن (Deregulation) کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کو نئی پالیسی گائیڈلائنز جاری کر دی ہیں۔ ان نئی ہدایات کے تحت ملک میں پٹرول اور ڈیڈل کی قیمتوں کے تعین کا پندرہ روزہ (Fortnightly) روایتی طریقہ کار ختم کر کے بین الاقوامی مارکیٹ کی طرز پر روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ (Daily Price Adjustment) کا نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد ملکی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کو عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے مطابق فوری قیمتیں مقرر کرنے کی آزادی دینا اور پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔
روزانہ قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ کا نیا فارمولا کیا ہے؟
وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی کی منظوری کے بعد جاری ہونے والی گائیڈلائنز کے مطابق اب ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر رات 12 بجے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کی بنیاد پر خودکار طریقے سے تبدیل ہوں گی۔
اس نئے طریقہ کار کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
اوگرا کا نگرانی کا کردار: اوگرا اب پٹرول کی قیمت خود مقرر نہیں کرے گا، بلکہ صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لاگت اور منافع کے فارمولے کی کڑی نگرانی کرے گا تاکہ صارفین سے اضافی رقم نہ وصول کی جا سکے۔
اندرونِ ملک فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM): ملک بھر میں پٹرول کی یکساں قیمت برقرار رکھنے کے لیے فریٹ مارجن کے نظام کو بھی ڈیجیٹلائزڈ کر کے روزانہ کی بنیاد پر اپڈیٹ کیا جائے گا۔
ڈیلرز اور او ایم سیز کے مارجن: پٹرولیم ڈیلرز اور آئل کمپنیوں کے منافع کے مارجن کو اب فکسڈ روپے کے بجائے فیصد (Percentage) کے نئے فارمولے کے تحت روزانہ کی قیمت میں شامل کیا جائے گا۔
اس فیصلے کے ملکی معیشت اور صارفین پر اثرات
وزارتِ پٹرولیم کے حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے پاکستان کا توانائی کا شعبہ عالمی معیار کے مطابق ہو جائے گا۔ ماضی میں جب پندرہ دن بعد قیمتیں بڑھنے کا امکان ہوتا تھا تو پٹرول پمپ مالکان پٹرول ذخیرہ کر لیتے تھے جس سے ملک میں شدید قلت پیدا ہو جاتی تھی تاہم اب روزانہ کی بنیاد پر چند پیسے یا چند روپے کی تبدیلی سے ذخیرہ اندوزی کا رجحان مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
دوسری جانب معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے عام صارفین کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال رہے گی کیونکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بدلتے ہی مقامی مارکیٹ میں بھی پٹرول مہنگا یا سستا ہو جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی (Petroleum Levy) اور سیلز ٹیکس کا حصہ حکومت اپنی ضرورت کے مطابق روزانہ یا ہفتہ وار بنیادوں پر ایڈجسٹ کرتی رہے گی۔ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ روزانہ تبدیل ہونے والی قیمتوں کا نوٹیفکیشن اپنی آفیشل ویب سائٹس اور پٹرول پمپس پر نمایاں طور پر آویزاں کریں۔






