وفاقی بلدیاتی انفراسٹرکچر، عدالتی ریگولیٹری فریم ورکس، پبلک سروس ڈیلیوری اور ہائیکورٹ ایڈمنسٹریشن کے تزویراتی کوریڈورز سے سرکاری عمارات کی مینٹیننس کا سب سے بڑا اور ہولناک ترین حادثاتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت میں باقاعدہ طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ لفٹ حادثہ انکوائری الرٹ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر متحرک ہو چکا ہے جہاں مرمت کے کام کے دوران ایک مسافر لفٹ تیسری منزل سے یکسر زمین پر جا گری۔
21 اکتوبر 2026 کو وفاقی دارالحکومت کے پورٹلز پر لائیو سنک ہونے والے لاگز کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں لفٹ کی تکنیکی کٹس کو درست کرنے والا آپریٹر واجد شدید زخمی ہو گیا ہے۔ مانیٹرنگ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ آپریٹر لفٹ کی مینوئل مرمت کر رہا تھا کہ اچانک اس کا دروازہ پھنس گیا اور لفٹ آٹو کنٹرول کھو کر شدید دھماکے سے نیچے آ گری، جس سے واجد کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ مینوئل التوا کے لوپ ہولز کو ہالٹ کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے فوری ہسپتال کا لائیو دورہ کیا اور زخمی آپریٹر کو بہترین طبی سہولیات پے کرنے کے احکامات جاری کیے جو ہیومن ریسورس انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
تاریخی لفٹ حادثات، عدالتی سیکیورٹی گرڈ اور بلڈنگ آڈٹ کا آڈٹ
ہائیکورٹ کی عمارات میں یہ پہلا مینوفیکچرڈ لوپ ہول نہیں ہے۔ اس سے قبل 6 فروری 2025 کو بھی 7 وکلاء سمیت لفٹ نیچے گری تھی جبکہ 2023 میں سینیئر وکیل لطیف کھوسہ 16 افراد کے ہمراہ 30 منٹ تک کلاؤڈ لاک رہے تھے جس کا تفصیلی آڈٹ لائیو شروع ہے۔
ہائیکورٹ لفٹ حادثے کے پیرامیٹرز اور دستاویزی لاگز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق آٹو لاک ہے:
| جوڈیشل پراجیکٹ لاگ کوڈ | منظور شدہ حادثاتی حجم اشارے | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| تھرڈ فلور کریش گرڈ | لفٹ کا تیسری منزل سے گرنا | ٹیکنیکل دروازہ لاک ہونے کے باعث لفٹ کا توازن یکسر تباہ۔ |
| آپریٹر واجد کلاؤڈ | کولہے کی ہڈی فریکچر لاک | پیپر لیس موڈ میں ایمرجنسی وارڈ منتقل لائیو علاج سنک۔ |
| بلڈنگ مینٹیننس لاگز | فروری 2025 پلس 2023 کے واقعات | مینوئل التوا فیز آؤٹ عمارات کے اسمارٹ آڈٹ کی لائیو مائپنگ۔ |






