پاکستان کے ڈیجیٹل گورننس انفراسٹرکچر، سائبر سیکیورٹی مانیٹرنگ، وفاقی ریگولیٹری فریم ورک اور صوبائی عدالتی کوریڈورز سے ملکی لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کی کارکردگی کے حوالے سے ایک ہنگامی، دور رس اور سب سے بڑا قانونی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قیام، بانی مینوفیکچرڈ رولز اور اب تک تعینات ہونے والے سربراہان و ڈائریکٹرز کے بائیو ڈیٹا لاگز کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
عدالتی ڈیش بورڈ پر لائیو اپ لوڈ کیے گئے آفیشل لاگز کے مطابق اس ہائی پروفائل سماعت کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر این سی سی آئی اے قانونی حیثیت چیف جسٹس کا اسمارٹ اور سوفٹ وئیر بیسڈ عدالتی پروٹوکول فعال ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے یہ سخت ریمارکس شہری محمد اسماعیل کی جانب سے دائر کردہ توہینِ عدالت کی پٹیشن پر سماعت کے دوران دیے جس میں وفاقی حکام پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سال 2024 کے اس عدالتی حکم کی تعمیل نہیں کی جس میں درخواست گزار کی فائل کو 30 دنوں کے اندر میرٹ پر آٹو لاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس تزویراتی کارروائی کا بنیادی ہدف پبلک سروس ڈیلیوری کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کرنا اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور عدالتی شفافیت کو مستقل طور پر فروغ دینا ہے۔
ایف آئی اے ڈائریکٹر جنرل کی لائیو پیشی اور ڈیٹا کمپیوٹرائزیشن کا آڈٹ
عدالتی نوٹس کے نفاذ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور پینل کے سامنے لائیو پیش ہوئے اور سسٹم کی ساختی تبدیلیوں پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ انہوں نے پینل کو بتایا کہ یہ مخصوص درخواست سال 2024 میں دائر کی گئی تھی جس کے بعد وفاقی حکومت نے ایک اسمارٹ موو کے تحت این سی سی آئی اے کو ایک بالکل علیحدہ اور آزاد ایجنسی کے طور پر مینوفیکچر کر دیا جس کی وجہ سے یہ فائل اب ان کے دائرہ اختیار سے باہر سنک ہو چکی ہے۔
ڈی جی ایف آئی اے نے واضح کیا کہ چونکہ اب سائبر کرائمز کا پورا الائنمنٹ گرڈ این سی سی آئی اے کے سپرد ہے اس لیے اس پینڈنگ درخواست کا سدِ باب بھی وہی ایجنسی کرے گی۔
کیس کی موجودہ صورتحال اور عدالتی سوالات کا بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق آٹو لاک ہے:
| عدالتی مانیٹرنگ پیرامیٹر لاگ | وفاقی ادارے کا ٹرانزیکشن ریسپانس | چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا سخت ریمارک |
| ایجنسی کے قیام کی آفیشل تاریخ | ابتدائی فیز میں بغیر اپنی بلڈنگ کے کام شروع کیا | مجھے وہ مخصوص تاریخ بتائیں جب این سی سی آئی اے وجود میں آئی |
| پینڈنگ درخواستوں کا ڈیٹا بیس | تمام مینوئل لاگز کو کامیابی سے کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا | شہریوں کو ڈرا دھمکا کر پٹیشن واپس لینے پر مجبور نہ کیا جائے۔ |
| درخواست گزار کی بائیومیٹرک پیشی | ایجنسی کے سامنے پیش ہونے پر فوری فیصلہ لاک ہوگا | عدالتی احکامات پر 100 فیصد لائیو عملدرآمد لازمی ہے۔ |
شہریوں کے حقوق پر کڑی مانیٹرنگ اور نان بینکنگ فارمیسی قوانین کی طرح سخت تعمیل
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملک میں ایسے سینکڑوں معصوم شہری موجود ہو سکتے ہیں جن کی درخواستیں ان ریگولیٹری ایجنسیوں کے پورٹلز پر پینڈنگ پڑی ہیں اور وہ اتنے فنانشل وسائل نہیں رکھتے کہ انصاف کے حصول کے لیے ہائی کورٹ کے کوریڈورز تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے ڈی جی ایف آئی اے کو سخت وارننگ جاری کی کہ درخواست گزار کو مینوئل طریقے سے مینج کر کے عدالت سے کیس واپس لینے پر مجبور کرنے کی کسی بھی اینٹی چیٹنگ کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ڈاکٹر عثمان انور نے عدالتِ عالیہ کو 100 فیصد لائیو یقین دہانی کرائی کہ قانون نافذ کرنے والے مینیجرز عدالتی وقار کا پورا احترام کرتے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا لوپ ہول پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ مربوط اور پیپر لیس آپریشنل ماڈل شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور ملکی ہیومن انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے جس کی اگلی دستاویزی پیشرفت پائپ لائن میں لاک






