ملکی قانونی انفراسٹرکچر، ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری فریم ورکس، پبلک سروس ڈیلیوری اور عدالتی مانیٹرنگ کے تزویراتی کوریڈورز سے میڈیکل طلبہ کے حقوق کا سب سے بڑا اور پراعتماد ترین عدالتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ امتحانی پرچے امیدواروں سے واپس لینے کے انتظامی اقدام کو یکسر غیر آئینی اور کالعدم قرار دے دیا ہے۔
17 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ عدالتی لاگز کے مطابق اس تاریخی رولنگ کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر لاہور ہائیکورٹ ایم ڈی کیٹ پرچہ منسوخی فیصلہ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کے معزز جج جسٹس احسن رضا کاظمی نے متاثرہ طلبہ ریحان شاہد اور عنابیہ طاہر کی لائیو پٹیشنز کو منظور کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی انتظامیہ کو سخت ترین آرڈرز پے کیے ہیں کہ تمام امتحانی پرچوں کو آفیشل موبائل ایپ پر آج ہی فوری طور پر لائیو اپ لوڈ کیا جائے۔ وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ملک ظہیر ارشد عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پٹیشنرز کے وکیل بیرسٹر عمران افراسیاب نے یہ پراعتماد موقف پیش کیا کہ سوالیہ پرچے اپنے پاس رکھنا امیدواروں کا بنیادی آئینی و قانونی حق ہے جس کے بعد مینوئل التوا کے تمام لوپ ہولز یکسر بلاک کر دیے گئے ہیں۔
پی ایم ڈی سی کلاؤڈ مائپنگ، طلبہ کے حقوق اور عدالتی حکم نامے کا آڈٹ
عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ کونسل طلبا کو پرچے تقسیم کرنے کے بعد انہیں واپس جمع کرنے کا غیر اخلاقی اور غیر قانونی پروٹوکول نافذ نہیں کر سکتی۔ میرٹ کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ڈیجیٹل اسکرٹنی کٹس الائن کی گئی ہیں جو تعلیمی انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے اولین ترجیح مانی گئی ہے۔
ایم ڈی کیٹ کیس اور عدالتی احکامات کے فیسکل پیرامیٹرز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق آٹو لاک ہے:
| عدالتی پراجیکٹ لاگ کوڈ | منظور شدہ عدالتی رولنگ انڈیکس | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| راولپنڈی بینچ آرڈر | پرچے واپس لینا غیر قانونی قرار | پی ایم ڈی سی انتظامیہ کے مینوئل بائی لاز لائیو ہالٹ۔ |
| ڈیجیٹل اپ لوڈنگ گرڈ | آفیشل ایپ پر فوری لائیو سنک | پیپر لیس موڈ میں تمام امتحانی پرچے کلاؤڈ پر منتقل کرنے کا حکم۔ |
| آئینی حقوق پروٹوکول | امیدواروں کا قانونی و اخلاقی حق | جسٹس احسن رضا کاظمی کا پراعتماد فیصلہ آج ہی نفاذ لازمی۔ |






