ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان نے تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے طلبہ کے لیے مختص اسکالرشپ منصوبے کے تحت ایم بی بی ایس (MBBS) اور بی ڈی ایس (BDS) کے داخلہ طریقہِ کار میں بڑی اور اہم تبدیلیاں کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق اب داخلوں کا پرانا مرکزی نظام ختم کر کے اسے مکمل طور پر متعلقہ میڈیکل یونیورسٹیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
اسکالرشپ فیز تھری اور یونیورسٹیوں کا براہِ راست کردار
یہ نیا ترمیمی فیصلہ ایچ ای سی کے خصوصی پروجیکٹ پروویژن آف ہائر ایجوکیشن اپرچونٹیز فار دی اسٹوڈنٹس آف بلوچستان اینڈ لیسٹ فاٹا (Phase-III)کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کا نیا میڈیکل پالیسی آرڈر نافذ ہونے کے بعد اب طلبہ کے لیے درج ذیل شرائط و مراحل پر عمل کرنا لازمی ہوگا:
براہِ راست درخواستیں : اب امیدوار داخلے کے لیے ایچ ای سی کے بجائے اپنی پسندیدہ میڈیکل اور ڈینٹل یونیورسٹیوں کے آفیشل پورٹل پر جا کر براہِ راست اپلائی کرنے کے پابند ہوں گے۔
سیٹ ایلوکیشن اور میرٹ: داخلوں، سیٹوں کی تقسیم اور میرٹ لسٹوں کی تیاری کی تمام تر ذمہ داری اب متعلقہ یونیورسٹیاں خود سنبھالیں گی جو کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کے منظور شدہ کوٹے اور قواعد کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔
ایچ ای سی کا کردار: ہائر ایجوکیشن کمیشن اب داخلوں کے انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا، بلکہ وہ صرف اپنے مقررہ میرٹ ٹیسٹ کے ذریعے منتخب ہونے والے کامیاب اسکالرشپ ہولڈرز کو فنڈز فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
داخلہ اور اسکالرشپ کی الگ الگ حیثیت
ایچ ای سی نے طلبہ اور والدین کو کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچانے کے لیے واضح طور پر مطلع کیا ہے کہ اسکالرشپ ٹیسٹ پاس کر لینا اور یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنا دو بالکل الگ الگ عمل ہیں۔ کمیشن کے مطابق، ایچ ای سی کی طرف سے اسکالرشپ کے لیے منتخب ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوگا کہ طالب علم کو میڈیکل کالج میں خود بخود سیٹ مل جائے گی۔ امیدواروں کو متعلقہ یونیورسٹی کا مقررہ تعلیمی معیار، ایم ڈی کیٹ (MDCAT) کی شرط اور داخلے کی آخری تاریخوں پر پورا اترنا ہوگا بصورتِ دیگر ان کا داخلہ منسوخ تصور کیا جائے گا۔






