پاکستان کی مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) اسٹار ملیحہ علی نے جارجیا کے شہر تبلیسی میں منعقدہ آئی ایم ایم اے ایف (IMMAF) ورلڈ چیمپئن شپ میں فیدر ویٹ (65.8 کلوگرام) کیٹیگری میں برونز میڈل (کانسی کا تمغہ) جیت کر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔ تاہم، سیمی فائنل میں روس کی پولینا بالدینا کے خلاف ان کی شکست شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہے، جس پر پاکستان ایم ایم اے فدریشن نے ججز کے اسپلٹ فیصلے کے خلاف باقاعدہ آفیشل اپیل دائر کر دی ہے۔
سیمی فائنل کا متنازع فیصلہ اور ججز کے اسکور کارڈز
سیمی فائنل کا یہ مقابلہ انتہائی سخت اور کانٹے دار تھا جس میں کسی بھی راؤنڈ کے دوران کوئی ایک فائٹر واضح طور پر حاوی نظر نہیں آئی۔ روسی کھلاڑی نے دوسرے راؤنڈ میں معمولی برتری حاصل کی جبکہ پہلا اور تیسرا راؤنڈ مکمل طور پر مسابقتی رہا۔ آخری راؤنڈ میں ملیحہ علی نے زیادہ صاف اور جاندار ہٹس لگائیں اور فائنل بیل بجنے پر انہوں نے فتح کے یقین کے ساتھ اپنے ہاتھ فضا میں بلند کیے۔
تاہم، ججز کے متنازع اور متضاد اسکور کارڈز نے میچ کا رخ بدل دیا:
ایک جج نے روسی کھلاڑی کو 30-27 سے فاتح قرار دیا۔
دوسرے جج نے 29-28 سے فیصلہ ملیحہ علی کے حق میں دیا۔
تیسرے جج نے روسی فائٹر کو 29-28 سے فاتح لکھا۔
پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن کے صدر عمر احمد نے ججز کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملیحہ علی یہ میچ واضح طور پر جیت چکی تھیں اور پاکستان کی فتح پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ فیڈریشن نے ریفرینگ اینڈ ججنگ کمیشن کے سربراہ کو باقاعدہ اپیل جمع کروا دی ہے جس میں راؤنڈ بائی راؤنڈ اسکورنگ کی تفصیلات، کارڈز میں تضاد کی وضاحت اور دونوں مقابلوں کے ٹیکنیکل ریویو کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سابق سوویت یونین کی ریاستیں ججنگ پینل پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کی حمایت کرتی ہیں۔
ملیحہ علی کا ورلڈ ایم ایم اے میڈل حاصل کرنا اس لیے بھی ایک غیر معمولی کارنامہ ہے کیونکہ وہ اس ٹورنامنٹ کے دوران شدید ترین چوٹوں کا شکار تھیں۔ وہ اپنے ٹوٹے ہوئے پیر کے انگوٹھے ، آنکھ کے شدید زخم، اور جزوی طور پر ہل جانے والے جبڑے کے باوجود میدان میں لڑتی رہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس حالت میں لڑ سکیں گی تو انہوں نے تاریخی جواب دیا کہ وہ دل سے لڑتی ہیں اور ان کے زخمی ہاتھ پاؤں کوئی معنی نہیں رکھتے۔
ملیحہ علی نے سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے روس کی دو بار کی یورپی چیمپئن ویرونیکا ڈروزدووا اور کوارٹر فائنل میں میکسیکو کی آندریہ گابریلا کو شکست دی تھی۔ دوسری جانب ان کی جڑواں بہن منیشہ علی کو بھی لائٹ ویٹ (70.3 کلوگرام) کے کوارٹر فائنل میں پولینڈ کی مارٹینا کے خلاف انتہائی قریبی اسپلٹ فیصلے کے بعد کٹ آف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی فیڈریشن کی جانب سے دائر کردہ اپیل کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔






