وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جنوبی پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں ٹونسہ بیراج کے مقام پر ایک انتہائی شاندار اور منفرد ماحولیاتی سیاحتی منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ بلائنڈ ڈولفن ریزورٹ کا افتتاح صوبے میں جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب (TDCP) کے زیرِ اہتمام تیار کیا جانے والا یہ جدید ریزورٹ دریائے سندھ کے کنارے 120 کنال کے وسیع رقبے پر محیط ہے۔
بلائنڈ ڈولفن ریزورٹ کا افتتاح اور جدید سیاحتی خصوصیات
حکومتی اعلامیے کے مطابق اس بین الاقوامی معیار کے ریزورٹ کو مکمل طور پر ماحول دوست اصولوں پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا سب سے منفرد اور دلکش پہلو یہ ہے کہ یہاں آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاح دریائے سندھ کی لہروں میں نایاب اور ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار انڈس بلائنڈ ڈولفن (جسے مقامی زبان میں بھولن کہا جاتا ہے) کو ان کے قدرتی مسکن میں بہت قریب سے دیکھ سکیں گے۔
ریزورٹ کے اندر سیاحوں کو درج ذیل عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں:
لگزری ہاسپیٹلٹی: رات کے قیام کے لیے آرام دہ اور پرسکون کمرے۔
پینورامک ٹیرس ویوز: جہاں بیٹھ کر سیاح صبح کی چائے کے ساتھ دریا کا خوبصورت نظارہ کر سکتے ہیں۔
فائن ڈائننگ: فیملیز کے لیے بہترین اور معیاری ریسٹورنٹ کی سہولت۔
نایاب انڈس ڈولفن کا تحفظ اور جنوبی پنجاب میں سیاحت
تونسہ بیراج کا یہ مخصوص علاقہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نایاب اندھی ڈولفن کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تسلیم کیا جاتا ہے جہاں مچھلی پکڑنے پر سخت پابندی عائد ہے۔ پنجاب میں اس وقت ان ڈولفنز کی کل تعداد تقریباً 660 کے قریب ہے جن میں سے اکثریت اسی دریا کے ٹکڑے میں رہتی ہے۔
بلائنڈ ڈولفن ریزورٹ کا افتتاح نہ صرف موٹر اسپورٹس اور تفریحی سیاحت کو فروغ دے گا بلکہ اس سے مقامی مچھیروں اور آبادی کو بھی روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔ مریم نواز شریف کے وژن میگنیفیشنٹ پنجاب کے تحت یہ پروجیکٹ دنیا کو پاکستان کا ایک مثبت اور خوبصورت چہرہ دکھانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو گا۔






