پاکستان کے سیاسی منظرنامے، داخلی سلامتی اور وفاقی دارالحکومت کے انتظامی مانیٹرنگ امور کے حوالے سے ایک انتہائی تزویراتی اور بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کے تفصیلی فیصلے کی روشنی میں کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کو وفاق کی حدود میں داخل ہونے یا احتجاجی مارچ کرنے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے باقاعدہ طور پر اسلام آباد لانگ مارچ پابندی کا سافٹ ویئر فریم ورک اور سیکیورٹی مینوئل لائیو کر دیا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں (LEAs) کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ اگر کسی نے بھی ہائی کورٹ کے عدالتی احکامات کی مینوئل یا ڈیجیٹل خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، تو سیکیورٹی فورسز منٹوں میں فوری، فیصلہ کن اور کڑی تعزیراتی کارروائی عمل میں لائیں۔
کوہاٹ دھماکے کا افسوسناک واقعہ اور خیبر پختونخوا حکومت کے لیے سخت ریگولیٹری مشورہ
وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس کے دوران کوہاٹ میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے دھماکے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اس نازک جیو پولیٹیکل صورتحال پر بات کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کے مائنڈ سیٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت پسماندہ اضلاع میں کسٹمرز (شہریوں) کے تحفظ کے لیے اینٹی ٹیررازم آپریشنز چلانا صوبائی مینیجرز کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
محسن نقوی نے سائنسی اور تنظیمی تجزیہ پیش کرتے ہوئے درج ذیل تین بنیادی نکات پر زور دیا:
دہشت گردی کا سدِباب: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور ان کی صوبائی کابینہ کو اپنی پوری توانائی اور ریاستی فنڈز لانگ مارچ کی مینوفیکچرنگ اور لوگوں کو سڑکوں پر لانے کے بجائے صوبے سے دہشت گردی کی لعنت کا جڑ سے خاتمہ کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے۔
سیاسی ریلیاں بمقابلہ مسلح جتھے: انہوں نے واضح کیا کہ پرامن سیاسی جلسوں اور جدید اسلحہ سے لیس مینوئل جتھوں کے مابین ایک واضح قانونی فرق ہونا چاہیے اور ریاست کسی بھی مسلح گروہ کو پبلک انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
انسانی جان کے ضیاع کی ذمہ داری: وزیر داخلہ نے دوٹوک الفاظ میں انتباہ جاری کیا کہ اگر اس غیر قانونی مارچ کے نتیجے میں کسی بھی معصوم انسان کا خون بہا یا مالیاتی نقصان ہوا تو اس کے تمام تر نتائج کے ذمہ دار براہِ راست احتجاج کے آرگنائزرز ہوں گے۔
معاشی اشاریوں کا تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سوفٹ وئیر بیسڈ کیپیسٹی
وفاقی مینیجرز نے پریس بریفنگ میں اس بات کی توثیق کی کہ کسی بھی غیر مستحکم احتجاجی لہر سے ملکی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس اور آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے بعد ابھرتے ہوئے معاشی اشاریوں کو شدید دھچکا پہنچتا ہے۔ محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن کے سنجیدہ اور دانشور عناصر اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کریں گے کیونکہ یہ معیشت پر ایک نیا مالیاتی بوجھ ڈالنے کا سبب بنے گا۔
وزارتِ داخلہ نے نادرا (NADRA) اور سیف سٹی کے کلاؤڈ مانیٹرنگ پورٹلز کو لائیو اسکیننگ کے ساتھ فعال کر دیا ہے تاکہ شرپسندوں کی بائیومیٹرک وائٹ لسٹنگ چوبیس گھنٹے کی جا سکے۔ وفاقی سیکیورٹی فورسز کسی بھی ناگہانی امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر لائیو اور کیپبل ہیں۔ شہریوں کی سہولت کے لیے وزارت نے ایک مخصوص ڈیجیٹل انفارمیشن ہیلپ ڈیسک اور یونیورسل ہیلپ لائن کو متحرک کر رکھا ہے جہاں سے راستے بلاک ہونے اور ٹریفک لاگز کا سائنسی آڈٹ منٹوں میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ اسمارٹ ریگولیشن پاکستان کے سافٹ امیج کو بین الاقوامی دنیا کے سامنے مستقل طور پر فروغ دے گا۔






