پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور شدید گرمی نے عام شہریوں بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ سندھ نے پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت ایک تاریخی فلاحی منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ سندھ فری سولر اسکیم کے تحت صوبے بھر کے انتہائی مستحق اور کم آمدنی والے گھرانوں میں 2 لاکھ 75 ہزار (275,000) مفت سولر ہوم سسٹم (SHS) تقسیم کیے جا رہے ہیں۔,
تقریباً 18 ارب روپے سے زائد کی بھاری مالیت سے شروع کیے گئے اس میگا پروجیکٹ کا مقصد پسماندہ خاندانوں کو بجلی کے بھاری بلوں سے نجات دلانا اور صوبے میں صاف و سستی توانائی کو فروغ دینا ہے۔ تاہم، اتنے بڑے پیمانے پر تقسیم کے لیے حکومت نے ایک انتہائی شفاف اور سخت اہلیت کا معیار مقرر کیا ہے تاکہ یہ سسٹمز صرف حقیقی حقداروں تک ہی پہنچیں۔
سندھ فری سولر اسکیم کے لیے اہلیت کا بنیادی معیار کیا ہے؟
محکمہ توانائی سندھ (Sindh Energy Department) نے اس اسکیم کے فیز ٹو (Phase-II) کے لیے درج ذیل قانونی اور سماجی شرائط لازمی قرار دی ہیں:
بجلی کا کم استعمال (یونٹ کی حد): اس اسکیم کے لیے صرف وہی خاندان درخواست دینے کے اہل ہیں جن کا ماہانہ بجلی کا استعمال گزشتہ 6 ماہ کے دوران مسلسل 100 یونٹ یا اس سے کم رہا ہو۔
آف-گرید (Off-Grid) اور محروم علاقے: ایسے دور دراز دیہی علاقے جہاں بجلی کا گرڈ موجود ہی نہیں ہے وہاں کے رہائشیوں کو اس منصوبے میں اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
سندھ کی رہائش اور شناختی کارڈ: درخواست گزار کا سندھ کا مستقل رہائشی ہونا لازمی ہے اور اس کے پاس نادرا کا کارآمد کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) ہونا ضروری ہے۔
پہلے کوئی سرکاری سولر نہ لیا ہو: درخواست دہندہ نے ماضی میں وفاقی یا صوبائی حکومت کے کسی بھی دوسرے وزیرِ اعلیٰ یا وزیرِ اعظم کے سولر پروگرام سے فائدہ نہ اٹھایا ہو۔
مفت سولر ہوم سسٹم (SHS) پیکیج میں کیا کچھ شامل ہے؟
حکومتِ سندھ کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہر ایک سولر کٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ ایک چھوٹے گھر کی بنیادی سفری اور روشنی کی ضروریات کو باآسانی پورا کر سکے۔ اس پیکیج میں درج ذیل اشیاء شامل ہیں:
سولر پینل: ایک عدد 180 واٹ کا اعلیٰ معیار کا سولر پینل۔
بیٹری بیک اپ: دیرپا چلنے والی لیتھیم بیٹری (Lithium Battery) جو رات کے وقت 6 گھنٹے تک کا بہترین پاور بیک اپ فراہم کرتی ہے۔
پنکھا اور لائٹس: ایک عدد 35 واٹ کا ڈی سی (DC) پنکھا اور تین عدد توانائی بچانے والے ایل ای ڈی (LED) بلب۔
چارجنگ پورٹس: موبائل اور دیگر چھوٹے آلات کو چارج کرنے کے لیے بلٹ ان چارجنگ پورٹس۔
منصفانہ تقسیم کے لیے اضلاع کا کوٹہ اور مانیٹرنگ کا عمل
اس اسکیم کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتِ سندھ مختلف مقامی سماجی تنظیموں جیسے سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (SRSO) کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ مستحقین کی تصدیق گھر گھر جا کر کی جا سکے۔ صوبے کے تمام اضلاع بشمول لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ، شکارپور، خیرپور، سکھر اور حیدرآباد ڈویژن میں کوٹے کے مطابق سسٹمز کی تنصیب تیزی سے جاری ہے۔
اس کے ساتھ ہی جو متوسط طبقے کے خاندان اس مفت اسکیم کے معیار پر پورا نہیں اترتے ان کے لیے حکومتِ سندھ نے سندھ بینک کے تعاون سے ایک سستی سولر فنانسنگ اسکیم بھی متعارف کروائی ہے تاکہ وہ آسان اقساط پر اپنے گھروں کی چھتوں پر سولر لگوا سکیں۔






