وزارتِ تجارت نے ایک تاریخی فیصلے کے تحت کمرشل بنیادوں پر امپورٹڈ پرانی گاڑیاں لانے کے ضوابط تبدیل کرتے ہوئے پانچ سال کی عمر کی حد کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کا یہ نیا قانون یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل تصور کیا جائے گا۔ وزارتِ تجارت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے خط کا جواب دیتے ہوئے اس نئی پالیسی کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
وفاقی کابینہ کی منظوری اور درآمدی قوانین
سرکاری میمورنڈم کے مطابق پہلے مختلف کیٹیگریز بشمول کار، جیپ اور مال بردار گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ پر پانچ سال سے زیادہ پرانی نہ ہونے کی شرط عائد تھی جو تیس جون دو ہزار چھبیس کو ختم ہو چکی ہے۔ ای سی سی اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اب اس حد کو مستقل طور پر ہٹا دیا گیا ہے تاہم ان گاڑیوں کے لیے وزارتِ صنعت و پیداوار اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) کے مقرر کردہ ماحولیاتی اور سیکیورٹی معیار پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
استعمال شدہ گاڑیوں کی آمد میں ریکارڈ اضافہ
حکومت کی جانب سے درآمدی پالیسی میں نرمی کے بعد پاکستان میں پرانی گاڑیوں کی آمد میں حیرت انگیز اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں دو ہزار دو سو چھہتر (2,276) استعمال شدہ گاڑیاں امپورٹ کی گئیں جبکہ اس کے برعکس مئی کے مہینے میں یہ تعداد صرف 48 تھی۔ دوسری جانب مقامی طور پر گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں نے اس نئی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ امپورٹڈ گاڑیوں کی سستی دستیابی سے مقامی آٹو انڈسٹری کی سیلز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔






