قومی مینوفیکچرڈ انفراسٹرکچر، فنانشل انکلوژن، وفارق ریگولیٹری مانیٹرنگ اور وزارتِ صنعت و پیداوار کے تزویراتی کوریڈورز سے ملکی ریونیو انجن کو تیز کرنے کا سب سے بڑا اور پراعتماد ترین فیسکل بریک تھاؤ سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حتمی منظوری سے تیار کردہ نئے آٹو پالیسی مسودے کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ پانچ سالوں کے دوران مقامی اور امپورٹڈ گاڑیوں پر نیا آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ لیوی ٹیکس لگا کر 188.58 ارب روپے جمع کرنے کا تزویراتی فریم ورک لائیو کر دیا ہے۔
21 اکتوبر 2026 کو وفاقی فنانس پورٹلز پر لائیو سنک ہونے والے لاگز کے مطابق اس میگا ریونیو مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر نیا آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ لیوی ٹیکس نوٹیفکیشن کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے۔ تخمینوں کے مطابق فیسکل سال 2026-27 میں 37.71 ارب روپے جبکہ سال 2027-28 میں یہ آمدن 38.46 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ نئے بائی لاز کے تحت چھوٹی گاڑیوں اور ٹریکٹرز پر زیرو ریٹ آٹو لاک کیا گیا ہے جبکہ 1001cc سے 2000cc تک کی گاڑیوں، بسوں پلس گرین کمرشل مال بردار لاریوں پر 2 فیصد اور 2000cc سے زائد کی لگژری گاڑیوں پر 10 فیصد کا بھاری لیوی ریٹ نافذ ہوگا تاکہ مینوئل التوا کے تمام لوپ ہولز یکسر بلاک کیے جا سکیں جو ملکی بجٹ خسارے کو دور کرنے کے لیے اولین ترجیح مانا گیا ہے۔
انجن کپیسٹی کٹس، امپورٹڈ وہیکلز ریونیو اور آٹو ریفارمز کا آڈٹ
مالیاتی مینیجرز کے مطابق اس اسمارٹ ٹیکسیشن کا بنیادی ہدف مقامی آٹو انڈسٹری کی مینوفیکچرڈ کٹس کو دستاویزی بنانا اور کلاؤڈ ڈیٹا کے تحت آڈٹ کرنا ہے۔ 2030-31 تک سالانہ آمدن 36 سے 38 ارب روپے کے پراعتماد زون میں الائن رہے گی جس کا تفصیلی آڈٹ لائیو شروع کر دیا گیا ہے۔
گاڑیوں پر عائد لیوی چارجز کے فیسکل حجم اور تزویراتی سائز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| آٹو ٹیکس پراجیکٹ لاگ کوڈ | منظور شدہ لیوی ٹیکس شرح | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| لگژری وہیکلز گرڈ | 2000cc سے زائد پر 10% ٹیکس | امپورٹڈ پلس مقامی اسمبل شدہ ہائی اینڈ کاروں پر آٹو لاک۔ |
| مڈ ٹیر وہیکلز کلاؤڈ | 1001cc تا 2000cc پر 2% لیوی | کمرشل وینز، بسوں اور ٹرکوں کا ڈیٹا بیس لائیو مائپنگ کے ساتھ سنک۔ |
| سوشل پروٹیکشن کٹس | 1000cc سے کم کاریں مستثنیٰ | موٹر سائیکلوں، رکشوں پلس زراعتی ٹریکٹرز کو مینوئل ریٹ پر ہی لائیو استثنیٰ۔ |






