خلیجی خطے کی سیاحت، جیو اکانومی اور بین الاقوامی مسافروں کی نقل و حرکت کے حوالے سے ایک انتہائی تاریخی اور انقلابی بریک تھرو سامنے آیا ہے ۔ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے باقاعدہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ خطے کے چھ ممالک کے لیے مشترکہ سفری نیٹ ورک، جسے آفیشل طور پر خلیجی ممالک مشترکہ ٹورسٹ ویزا کا نام دیا گیا ہے اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور بہت جلد اسے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے لانچ کر دیا جائے گا ۔
ریاض میں منعقدہ سیکیورٹی اینڈ ہسٹری ڈائیلاگ کانفرنس کے ایک خصوصی سیشن کے دوران جی سی سی کے مینیجرز نے اس اسمارٹ پراجیکٹ کا تازہ ترین ریگولیٹری مینوئل پیش کیا اس نئے سوفٹ وئیر بیسڈ امیگریشن کوریڈور کا بنیادی مقصد روایتی مینوئل کسٹمز اور الگ الگ ویزا اپلائی کرنے کے پیچیدہ قوانین کو ختم کر کے یورپ کے شینگن ویزا کی طرز پر ایک ہی پرمٹ کے ذریعے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (UAE)، قطر، بحرین، کویت اور عمان کی آزادانہ سیاحت کو ممکن بنانا ہے ۔
ون ویزا، سکس کنٹریز: 3 ماہ کی مدت اور آن لائن سافٹ ویئر
سعودی عرب کے وزیرِ سیاحت نے بھی خلیج گیٹ وے انویسٹمنٹ فورم میں اس بات کی توثیق کی ہے کہ یہ گرینڈ ٹورسٹ ویزا خلیجی ممالک کے معاشی تنوع اور ویژن 2030 کے مقاصد کو تیز کرنے میں کلیدی ثابت ہوگا۔
اس نئے ڈیجیٹل مواصلاتی فریم ورک کے بنیادی لاجسٹک اور فنانشل خدوخال درج ذیل خطوط پر مینوفیکچر کیے گئے ہیں:
پیپر لیس آن لائن پورٹل: مسافروں کو کسی بھی سفارت خانے کے چکر کاٹنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ درخواستوں کی پروسیسنگ نادرا کے پورٹل کی طرح مکمل طور پر کیش لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ ہوگی۔
ملٹی پلس انٹری اور میعاد: یہ ویزا 1 سے 3 ماہ تک کی لچکدار میعاد کے ساتھ جاری کیا جائے گا، جس کے تحت مسافر 90 دن کے دوران ان 6 ممالک کے بارڈرز بغیر کسی اضافی مینوئل تاخیر کے پار کر سکیں گے۔
بحرین-یو اے ای پائلٹ فیز: اس وقت متحدہ عرب امارات اور بحرین کے مابین سنگل انٹری پوائنٹ فار ایئر ٹریول کا سائنسی تجربہ لائیو کیا جا چکا ہے، جہاں مسافر بائیومیٹرک اسکیننگ اور ای-گیٹس کے ذریعے پہلی روانگی پر ہی دونوں ممالک کی امیگریشن منٹوں میں کلیئر کر لیتے ہیں۔
پاکستانی تارکینِ وطن اور سمندر پار مینیجرز کے لیے شاندار معاشی فوائد
اس مشترکہ ویزا سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں غیر ملکی کسٹمرز (خصوصاً پاکستانی اور انڈین ڈائیسپورا) کو حاصل ہوگا۔ اب تک دبئی یا دوحہ میں مقیم کسی پاکستانی ورکر یا بزنس مین کو اگر عمرہ کی سعادت کے لیے مکہ یا مدینہ جانا ہوتا تھا، تو اسے الگ سے سعودی ویزا مینوئل کو فالو کرنا پڑتا تھا۔ لیکن اس گرین کوریڈور کے نفاذ کے بعد خلیج کے کسی بھی ملک کا رہائشی کارپوریٹ پورٹل پر لاگ ان کر کے منٹوں میں دوسرے ملک کا سفری اجازت نامہ حاصل کر سکے گا۔
مسافروں کو اس الائنس کے تحت اپلائی کرنے کے لیے درج ذیل سائنسی دستاویزات کا کلاؤڈ ریکارڈ تیار رکھنا ہوگا:
پاسپورٹ اور فنڈز کی توثیق: کم از کم 6 ماہ کے لیے درست پاسپورٹ اور سفر کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے بینک سٹیٹمنٹ۔
ٹریول انشورنس اور رہائش: تمام 6 ریاستوں میں قابلِ قبول ڈیجیٹل ٹریول انشورنس اور ہوٹل بکنگ کا سوفٹ وئیر ریکارڈ۔
جی سی سی کامن ریل نیٹ ورک اور مستقبل کا روڈ میپ
جی سی سی سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے واضح کیا کہ یہ ویزا خطے کے بڑے انفراسٹرکچر پراجیکٹس جیسے کہ جی سی سی کامن ریل پراجیکٹ کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے، جو دبئی اور ابوظہبی کو براہِ راست سعودی عرب کے ریلوے نیٹ ورک سے جوڑے گا۔ اگرچہ ابھی تک ویزا کی حتمی آفیشل فیس کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن فنانشل مینیجرز کے مطابق یہ قیمت 90 سے 130 امریکی ڈالر کے درمیان فکس ہونے کی توقع ہے، جو کہ چھ الگ ویزوں کی نسبت انتہائی سستی اور کفایت شعار ہوگی۔ خلیجی خطے کی یہ معاشی اور سفارتی منتقلی آنے والے وقتوں میں عالمی سیاحت کے انڈیکس میں اس کا سافٹ امیج ریکارڈ حد تک بلند کر دے گی۔






