عالمی سطح پر پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں نے ایک بار پھر ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔ مشہور امریکی میگزین فوربز (Forbes) نے اپنی سالانہ فوربز 30 انڈر 30 ایشیا 2026 (Forbes 30 Under 30 Asia 2026) کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس باوقار عالمی فہرست میں دنیا بھر سے 300 ایسے نوجوان انٹرپرینیورز، لیڈرز اور مہم جو افراد کو شامل کیا گیا ہے جو 30 سال سے کم عمر ہیں اور اپنے اپنے شعبوں میں انقلاب برپا کر رہے ہیں۔ اس سال پاکستان سے تعلق رکھنے والے 7 غیر معمولی نوجوانوں نے اس فہرست میں جگہ بنائی ہے، جن کا تعلق شوبز، فنانس، ٹیکنالوجی، سائنس اور سماجی بہبود جیسے شعبوں سے ہے۔ آئیے ان 7 چمکتے ہوئے پاکستانی ستاروں اور ان کے کارناموں کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں۔
ہانیہ عامر: شوبز اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا کا بڑا نام
پاکستان کی معروف اور ہر دلعزیز اداکارہ ہانیہ عامر کو فوربز نے انٹرٹینمنٹ اور اسپورٹس کی کیٹیگری میں شامل کیا ہے۔ ہانیہ عامر نے گزشتہ ایک دہائی میں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو متعدد سپر ہٹ ڈرامے دیے ہیں جن میں حالیہ بلاک بسٹر ڈرامہ کبھی میں کبھی تم بھی شامل ہے۔ وہ انسٹاگرام پر 20 ملین سے زائد فالوورز کے ساتھ پاکستان کی سب سے زیادہ فالو کی جانے والی خاتون شخصیت بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان میں اقوام متحدہ کی خواتین کی قومی خیر سگالی سفیر (UN Women National Goodwill Ambassador) کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ڈاکٹر ماہرہ غنی: سائنس اور ہیلتھ کیئر میں انقلاب
کیمبرج یونیورسٹی سے میٹریل سائنس میں پی ایچ ڈی (PhD) کرنے والی ڈاکٹر ماہرہ غنی کو ہیلتھ کیئر اور سائنس کی کیٹیگری میں اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ ماہرہ غنی اس وقت کیمبرج یونیورسٹی میں ہی الٹرا تھن سیمی کنڈکٹرز پر پوسٹ ڈاکیٹورل ریسرچ کر رہی ہیں۔ وہ "WinSci Pakistan” نامی ادارے کی سربراہی بھی کرتی ہیں جس کا مقصد پاکستانی خواتین اور نوجوانوں میں سائنسی ایجادات اور ریسرچ کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔ ان کی اس کامیابی پر وفاقی سطح پر بھی سراہا گیا ہے، جس کی تفصیلات آپ حکومت پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی آفیشل اپڈیٹس پر دیکھ سکتے ہیں۔
فہد شہباز: یوتھ لیڈرشپ
فہد شہباز کو فوربز نے ‘سوشل امپیکٹ’ (Social Impact) کی کیٹیگری میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے محض 18 سال کی عمر میں یوتھ جنرل اسمبلی (YGA) کی بنیاد رکھی تھی جو آج پاکستان بھر کے نوجوانوں کو پبلک پالیسی، گورننس اور پارلیمانی امور پر مباحثے کا ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ فہد شہباز اس سے قبل برطانیہ کا معزز ڈیانا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں اور وہ ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل شیپرز کمیونٹی کا حصہ بھی ہیں۔
سمن کامران: سماجی موضوعات پر فلم سازی
فلم میکر سمن کامران کو بھی ہانیہ عامر کے ہمراہ تفریح اور کھیل کی کیٹیگری میں جگہ ملی ہے۔ سامان کامران کی فلمیں اور دستاویزی دستاویزی خاکے بنیادی طور پر پاکستان کے سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان کے اچھوتے کام اور عالمی معیار کی فلم سازی کی بدولت انہیں فوربز کی جانب سے ایشیا کے بہترین نوجوان مائنڈز میں شمار کیا گیا ہے۔
اور محمد فرقان کریم کدوائی اور سرفراز شاہد حسین: فنانس اور اے آئی (Plouton AI)
حبیب یونیورسٹی کے ان دو باصلاحیت گریجویٹس نے سنگاپور میں قائم Plouton AI نامی فینٹیک کمپنی کی بنیاد رکھی جس کی وجہ سے انہیں ‘فنانس اور وینچر کیپیٹل’ کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کا یہ جدید پلیٹ فارم درمیانے درجے کی کمپنیوں کو مہنگے سافٹ ویئرز خریدے بغیر براؤزر ایجنٹس کے ذریعے انوائسنگ، پے رول اور فنانس ورcurrent فلو کو خودکار (Automate) کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ دونوں نوجوان اس سے قبل پاکستان میں ‘YPay فنانشل سروسز’ بھی شروع کر چکے ہیں۔ پاکستان میں اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ (PSF) کے ذریعے ایسے ہی نوجوانوں کے آئیڈیاز کو سپورٹ کیا جاتا ہے۔
سید اسماعیل: انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے نئے درخشاں ستارے
کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان بزنس مین سید اسماعیل کو فوربز نے انٹرپرائز ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کی شاندار خدمات پر منتخب کیا ہے۔ وہ کراچی میں قائم فینٹیک اور جیوتی ویلفیئر سے منسلک اسٹارٹ اپ "Saraaf” کے شریک بانی ہیں۔ سید اسماعیل کی کاوشوں نے پاکستان میں روایتی مالیاتی نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے اور عام لوگوں کے لیے کاروباری عمل کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مزید تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس جاننے کے لیے Urdu Khabar کا رخ کریں۔






