Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ: مالی سال 2026-27 کا بجٹ ملتوی، تنخواہ دار طبقے پر کیا اثر پڑے گا؟

عدیل حسن by عدیل حسن
جون 4, 2026
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز, بینکنگبینکنگ اور مالیاتی خبریں – سود کی شرح، بینک پالیسیاں اور مالی اپ ڈیٹس, پاکستان بزنس نیوز – کاروبار، مارکیٹ، تجارت اور اقتصادی اپ ڈیٹس, پاکستانی معیشت کی خبریں – جی ڈی پی، مہنگائی اور اقتصادی پیش رفت, مالیات
وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ

پاکستان کا آئندہ مالی سال 2026-27 کا سالانہ معاشی منصوبہ جو پہلے جون کے آغاز میں پیش کیا جانا تھا اب باقاعدہ طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے شیڈول میں اس اچانک تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے جس کے تحت اب نیا وفاقی بجٹ 10 جون 2026 کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے ساتھ جاری مذاکرات اور قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اجلاس میں ناگزیر تاخیر کے بعد سامنے آیا ہے جس نے بجٹ کی حتمی تیاریوں کی ٹائم لائن کو متاثر کیا ہے۔ اس تاخیر نے ملک بھر کے عوام بالخصوص تنخواہ دار طبقے (Salaried Class) میں بے چینی اور تجسس پیدا کر دیا ہے کیونکہ نئے بجٹ میں انکم ٹیکس کی شرح اور سلیبز میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

وفاقی بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی کی بنیادی وجوہات

وزارتِ خزانہ کے قریبی ذرائع کے مطابق بجٹ شیڈول کو آگے بڑھانے کے پیچھے چند انتہائی اہم معاشی اور آئینی عوامل کارفرما ہیں:

قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا التوا: این ای سی کا اجلاس، جس کا بنیادی مقصد ملک کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) یعنی ترقیاتی بجٹ کی حتمی منظوری دینا ہوتا ہے تاخیر کا شکار ہوا۔ اس اعلیٰ ترین فورم کی منظوری کے بغیر بجٹ دستاویز کو حتمی شکل دینا ممکن نہیں تھا۔

آئی ایم ایف (IMF) کی سخت شرائط: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے بیل آؤٹ پروگرام کے لیے ٹیکس اہداف پر آخری مراحل کی بات چیت جاری ہے۔ حکومت ایک ایسا بجٹ تیار کرنے پر مجبور ہے جو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے مطابق ہو تاکہ معاشی استحکام برقرار رہے جس کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیرِ اعظم شہباز شریف کا بڑا اقدام: وزیرِ اعظم آفس آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم کا باقاعدہ آغاز

پارلیمانی حاضری کے مسائل: درجنوں ارکانِ پارلیمنٹ کی حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانگی کے باعث بھی پارلیمانی سیشنز کو ری شیڈول کرنے کی ضرورت پیش آئی تاکہ بجٹ منظوری کے وقت مناسب حاضری یقینی بنائی جا سکے۔

تنخواہ دار طبقے (Salaried Class) کے لیے نئے بجٹ کے معنی

وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تو چند دن کی لچک پیدا کر دی گئی ہے لیکن تنخواہ دار طبقے کے لیے آنے والا بجٹ معاشی طور پر کافی بھاری ثابت ہونے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت حکومت انکم ٹیکس کے نظام میں بڑی اصلاحات کرنے جا رہی ہے جس کا براہِ راست اثر تنخواہ دار افراد کی ماہانہ ٹیک ہوم (Take-home) سیلری پر پڑے گا۔

انکم ٹیکس سلیبز (Income Tax Slabs) میں ممکنہ تبدیلیاں

بجٹ تجاویز کے مطابق موجودہ انکم ٹیکس سلیبز کو ریوائز کیا جا رہا ہے۔ سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ سالانہ 6 لاکھ روپے (یعنی 50,000 روپے ماہانہ) تک کی آمدنی پر حاصل ٹیکس چھوٹ (Exemption) کو ختم یا کم کیا جا سکتا ہے یا اس پر کم از کم ٹیکس ریٹ لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مڈل کلاس اور پریمیم سیلری بریکٹس (جیسے ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے) کے ٹیکس ریٹس میں 2 سے 5 فیصد تک کا اضافہ متوقع ہے۔

تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا تخمینہ

مہنگائی کے شدید بوجھ کو کم کرنے کے لیے وزارتِ خزانہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں اور پنشن میں 7 سے 10 فیصد تک کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس پر غور کر رہی ہے۔ تاہم ملازمین کی تنظیمیں اس مجوزہ اضافے کو ناکافی قرار دے رہی ہیں کیونکہ ان کا مؤقف ہے کہ انکم ٹیکس میں اضافے اور بجلی و گیس کے نئے ٹیرف کے بعد یہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان نے 126 ممالک کے شہریوں کے لئے ویزا فیس ختم کر دی 

مجموعی معاشی اہداف اور نئے ٹیکس اقدامات

مالی سال 2026-27 کے کل وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 17.1 ٹریلین (17 ہزار 100 ارب) روپے متوقع ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو 15,267 ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ہدف دیا جا رہا ہے۔

ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے حکومت صرف تنخواہ دار طبقے پر انحصار کرنے کے بجائے ریئل اسٹیٹ سیکٹر، پرچون فروشوں (Retailers) اور پہلی بار کرپٹو اثاثوں پر کیپیٹل گین ٹیکس متعارف کرانے کی حتمی تیاریوں میں ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم لیوی کی حد کو بھی موجودہ 60 روپے سے بڑھا کر 70 یا 80 روپے فی لیٹر تک کرنے کی تجویز ہے جس سے جون کے بعد ٹرانسپورٹیشن اور گروسری مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔ 

عدیل حسن

عدیل حسن

عدیل حسن ایک اقتصادی نامہ نگار ہیں جو کاروباری ترقی اور شہری منڈیوں سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ان کی رپورٹنگ ملکی معیشت، تجارتی رجحانات، اور کاروباری مواقع کے تجزیے پر مبنی ہوتی ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

بنگلہ دیش عوامی لیگ رہنما سزائے موت

بنگلہ دیشی عدالت کا شیخ حسینہ دور کے 7 سرکردہ رہنماؤں کوسزائے موت سنانے کا فیصلہ

ستمبر 16, 2026
خیبر پختونخوا اسکول ہفتہ وار تعطیلات

خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں دو ہفتہ وار چھٹیوں کے وائرل نوٹیفکیشن پر محکمہ تعلیم کی وضاحت

ستمبر 16, 2026
پاک انڈونیشیا بحری تعاون

پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین مشترکہ دفاعی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کا تاریخی فیصلہ

ستمبر 16, 2026
پی ٹی اے اونک سمز

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا اونک برانڈ کے خلاف بڑا ایکشن اور سموں کی فروخت پرپابندی 

ستمبر 15, 2026
پٹرول سبسیڈی اسکیم رجسٹریشن

وزیراعظم کا پٹرول سبسیڈی کے لیے مفت ایس ایم ایس سروس فراہم کرنے کا بڑا ریگولیٹری حکم نامہ جاری

ستمبر 15, 2026
انڈین کرکٹ ٹیم ٹرافی تنازع

بھارت نے ایشیا کپ کی ٹرافی لینے سے کیوں انکار کیا؟

ستمبر 15, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

بنگلہ دیش عوامی لیگ رہنما سزائے موت

بنگلہ دیشی عدالت کا شیخ حسینہ دور کے 7 سرکردہ رہنماؤں کوسزائے موت سنانے کا فیصلہ

ستمبر 16, 2026
خیبر پختونخوا اسکول ہفتہ وار تعطیلات

خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں دو ہفتہ وار چھٹیوں کے وائرل نوٹیفکیشن پر محکمہ تعلیم کی وضاحت

ستمبر 16, 2026
پاک انڈونیشیا بحری تعاون

پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین مشترکہ دفاعی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کا تاریخی فیصلہ

ستمبر 16, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.