پاکستان کا آئندہ مالی سال 2026-27 کا سالانہ معاشی منصوبہ جو پہلے جون کے آغاز میں پیش کیا جانا تھا اب باقاعدہ طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے شیڈول میں اس اچانک تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے جس کے تحت اب نیا وفاقی بجٹ 10 جون 2026 کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے ساتھ جاری مذاکرات اور قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اجلاس میں ناگزیر تاخیر کے بعد سامنے آیا ہے جس نے بجٹ کی حتمی تیاریوں کی ٹائم لائن کو متاثر کیا ہے۔ اس تاخیر نے ملک بھر کے عوام بالخصوص تنخواہ دار طبقے (Salaried Class) میں بے چینی اور تجسس پیدا کر دیا ہے کیونکہ نئے بجٹ میں انکم ٹیکس کی شرح اور سلیبز میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
وفاقی بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی کی بنیادی وجوہات
وزارتِ خزانہ کے قریبی ذرائع کے مطابق بجٹ شیڈول کو آگے بڑھانے کے پیچھے چند انتہائی اہم معاشی اور آئینی عوامل کارفرما ہیں:
قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا التوا: این ای سی کا اجلاس، جس کا بنیادی مقصد ملک کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) یعنی ترقیاتی بجٹ کی حتمی منظوری دینا ہوتا ہے تاخیر کا شکار ہوا۔ اس اعلیٰ ترین فورم کی منظوری کے بغیر بجٹ دستاویز کو حتمی شکل دینا ممکن نہیں تھا۔
آئی ایم ایف (IMF) کی سخت شرائط: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے بیل آؤٹ پروگرام کے لیے ٹیکس اہداف پر آخری مراحل کی بات چیت جاری ہے۔ حکومت ایک ایسا بجٹ تیار کرنے پر مجبور ہے جو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے مطابق ہو تاکہ معاشی استحکام برقرار رہے جس کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا رہا ہے۔
پارلیمانی حاضری کے مسائل: درجنوں ارکانِ پارلیمنٹ کی حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانگی کے باعث بھی پارلیمانی سیشنز کو ری شیڈول کرنے کی ضرورت پیش آئی تاکہ بجٹ منظوری کے وقت مناسب حاضری یقینی بنائی جا سکے۔
تنخواہ دار طبقے (Salaried Class) کے لیے نئے بجٹ کے معنی
وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تو چند دن کی لچک پیدا کر دی گئی ہے لیکن تنخواہ دار طبقے کے لیے آنے والا بجٹ معاشی طور پر کافی بھاری ثابت ہونے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت حکومت انکم ٹیکس کے نظام میں بڑی اصلاحات کرنے جا رہی ہے جس کا براہِ راست اثر تنخواہ دار افراد کی ماہانہ ٹیک ہوم (Take-home) سیلری پر پڑے گا۔
انکم ٹیکس سلیبز (Income Tax Slabs) میں ممکنہ تبدیلیاں
بجٹ تجاویز کے مطابق موجودہ انکم ٹیکس سلیبز کو ریوائز کیا جا رہا ہے۔ سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ سالانہ 6 لاکھ روپے (یعنی 50,000 روپے ماہانہ) تک کی آمدنی پر حاصل ٹیکس چھوٹ (Exemption) کو ختم یا کم کیا جا سکتا ہے یا اس پر کم از کم ٹیکس ریٹ لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مڈل کلاس اور پریمیم سیلری بریکٹس (جیسے ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے) کے ٹیکس ریٹس میں 2 سے 5 فیصد تک کا اضافہ متوقع ہے۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا تخمینہ
مہنگائی کے شدید بوجھ کو کم کرنے کے لیے وزارتِ خزانہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں اور پنشن میں 7 سے 10 فیصد تک کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس پر غور کر رہی ہے۔ تاہم ملازمین کی تنظیمیں اس مجوزہ اضافے کو ناکافی قرار دے رہی ہیں کیونکہ ان کا مؤقف ہے کہ انکم ٹیکس میں اضافے اور بجلی و گیس کے نئے ٹیرف کے بعد یہ اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوگا۔
مجموعی معاشی اہداف اور نئے ٹیکس اقدامات
مالی سال 2026-27 کے کل وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 17.1 ٹریلین (17 ہزار 100 ارب) روپے متوقع ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو 15,267 ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ہدف دیا جا رہا ہے۔
ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے حکومت صرف تنخواہ دار طبقے پر انحصار کرنے کے بجائے ریئل اسٹیٹ سیکٹر، پرچون فروشوں (Retailers) اور پہلی بار کرپٹو اثاثوں پر کیپیٹل گین ٹیکس متعارف کرانے کی حتمی تیاریوں میں ہے۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم لیوی کی حد کو بھی موجودہ 60 روپے سے بڑھا کر 70 یا 80 روپے فی لیٹر تک کرنے کی تجویز ہے جس سے جون کے بعد ٹرانسپورٹیشن اور گروسری مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔






