پاکستان کا آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ جو پہلے 5 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا تھا اب باقاعدہ طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے شیڈول میں اس اچانک تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی بجٹ کی نئی تاریخ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب ملک کا سالانہ معاشی منصوبہ 10 جون 2026 کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اہم ترین اجلاس کو ناگزیر وجوہات کی بنا پر ملتوی کیے جانے کے بعد سامنے آیا، جس کا براہِ راست اثر بجٹ کی تیاریوں کی ٹائم لائن پر پڑا ہے۔
وفاقی بجٹ میں تاخیر اور التوا کی بنیادی وجوہات
1. قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اجلاس میں تاخیر
این ای سی کا اجلاس، جس نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) یعنی ملک کے ترقیاتی بجٹ کی حتمی منظوری دینی تھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اس اہم آئینی فورم کے گرین سگنل کے بغیر ترقیاتی اخراجات کی حد مقرر کرنا اور بجٹ دستاویز کو حتمی شکل دینا قانونی طور پر ممکن نہیں تھا۔
2. آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ حتمی مذاکرات
پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے وفد کے درمیان نئے بجٹ کے ٹیکس اہداف، سبسڈیز کے خاتمے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت آخری اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حکومت ایک ایسا اسٹریٹجک بجٹ تیار کر رہی ہے جو آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے عین مطابق ہو تاکہ فنڈ کے پروگرام تک رسائی برقرار رہے۔
3. ارکانِ پارلیمنٹ کی حج پر روانگی
ابتدائی طور پر بجٹ کے پارلیمانی سیشنز کو جون کے آغاز میں شروع کرنے کی تجویز تھی۔ تاہم، 60 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ کی حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانگی کے باعث پیدا ہونے والے حاضری کے فرق کی وجہ سے بھی شیڈول میں لچک پیدا کرنا پڑی۔
مالی سال 2026-27 کے مجوزہ معاشی اہداف اور حجم
اگرچہ بجٹ کی پیشکش میں چند دن کی تاخیر کی گئی ہے، لیکن معاشی ماہرین کی جانب سے نئے مالی سال کے بنیادی خدوخال اور تخمینوں کا مسودہ پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہے۔
آئندہ بجٹ کے کلیدی اشاریے درج ذیل خطوط پر طے کیے جانے کی تجویز ہے:
مجموعی حجم: مالی سال 2026-27 کے کل وفاقی بجٹ کا حجم تقریباً 17.1 ٹریلین روپے متوقع ہے۔
ٹیکس ریونیو کا ہدف: وفاقی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے لیے 15,267 ارب روپے کا تاریخی اور جارحانہ ٹیکس ہدف تجویز کیا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے۔
معاشی شرح نمو اور مہنگائی: نئے سال کے لیے ملکی جی ڈی پی (GDP) گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد، جبکہ اوسط افراطِ زر (مہنگائی) کو 8.4 فیصد پر رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
دفاعی اور ترقیاتی بجٹ: دفاعی شعبے کے لیے 2,665 ارب روپے جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے 1.1 ٹریلین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور ٹیکس نیٹ میں نئی اصلاحات
وفاقی بجٹ کی نئی تاریخ کے نفاذ کے باوجود تنخواہ دار طبقے اور سرکاری ملازمین کی نظریں ریلیف پیکج پر ٹکی ہوئی ہیں۔ بجٹ مسودے کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 سے 10 فیصد تک اضافے پر غور کیا جا رہا ہے حالانکہ ملازمین کی تنظیمیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر اس سے زیادہ اضافے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔دوسری جانب آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت، حکومت ریئل اسٹیٹ، ریٹیل سیکٹر اور پہلی بار کرپٹو ٹریڈنگ (Crypto Trading) پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کر کے ٹیکس چوری کو روکنے کی حتمی تیاریوں میں مصروف ہے۔






