فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے سال 2026 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی ایف بی آر نے تمام تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مالیاتی گوشوارے مقررہ وقت کے اندر فائل کریں۔ ٹیکس ہدف کو پورا کرنے اور ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے اس سال حکومت نے گوشوارے جمع کرانے کے نظام میں سیکیورٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کو مزید سخت کیا ہے۔ وہ تمام افراد جن کی سالانہ آمدنی قانون کے مطابق ٹیکس کی حد میں آتی ہے ان کے لیے ایف بی آر ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ سے قبل اپنے فارم جمع کروانا قانونی طور پر لازم ہے۔
انکم ٹیکس ریٹرن 2026 جمع کرانے کی آخری تاریخ کیا ہے؟
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ٹیکس کیلنڈر کے مطابق مالیاتی سال 2025-26 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ قانون کے مطابق، انفرادی ٹیکس دہندگان (Individuals)، ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOPs)، اور تنخواہ دار ملازمین کو اپنے گوشوارے 30 ستمبر یا اس سے پہلے لازمی داخل کرنا ہوں گے۔ دوسری طرف، کمپنیوں (Companies) کے لیے ان کے خصوصی مالیاتی سال کے لحاظ سے آخری تاریخ مختلف ہو سکتی ہے۔ ایف بی آر کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اس سال آخری تاریخ میں توسیع کی روایتی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور ڈیڈ لائن میں بار بار توسیع نہیں کی جائے گی، اس لیے شہری آخری دنوں کے رش سے بچنے کے لیے جلد از جلد اپنے گوشوارے داخل کریں۔
آئرِس پورٹل (Iris Portal) پر آن لائن ریٹرن جمع کرانے کا طریقہ
ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے ایف بی آر نے اپنے آن لائن پورٹل ‘آئرس’ (Iris 2.0) کو مزید اپ گریڈ کیا ہے تاکہ فارم بھرنے کا عمل آسان اور تیز رفتار ہو سکے۔ آن لائن ریٹرن فائل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل بنیادی اقدامات ضروری ہیں:
رجسٹریشن اور لاگ ان: اگر آپ پہلی بار ریٹرن فائل کر رہے ہیں تو شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے لاگ ان اکاؤنٹ بنائیں۔
آمدنی اور اثاثوں کا اعلان: سال بھر کی کل آمدنی، تنخواہ، کاروباری منافع اور بینک بیلنس کا درست ڈیٹا درج کریں۔
ویلتھ سٹیٹمنٹ (Wealth Statement): اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد، گاڑیوں اور ذاتی اخراجات کی تفصیلات فراہم کریں۔
ٹیکس کریڈٹ اور کٹوتیاں: بجلی کے بلوں، موبائل کارڈز اور گاڑیوں پر کٹنے والے ایڈوانس ٹیکس کا کلیم شامل کریں۔
مقررہ تاریخ پر ریٹرن فائل نہ کرنے کے نقصانات اور جرمانے
اگر کوئی شہری ایف بی آر ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ یعنی 30 ستمبر تک اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرواتا تو اسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت سخت قانونی چارہ جوئی اور مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آخری تاریخ گزرنے کے بعد فائل نہ کرنے والے افراد (Non-Filers) کو ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) سے نکال دیا جاتا ہے یا ان کا نام شامل نہیں کیا جاتا۔ نان فائلر بننے کی صورت میں جائیداد کی خرید و فروخت، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور بینکنگ لین دین پر دوگنا ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، تاخیر سے فائل کرنے پر روزانہ کی بنیاد پر جرمانہ اور اضافی سرچارج بھی لاگو ہوتا ہے۔
فائلرز اور نان فائلرز کے لیے وفاقی بجٹ کی نئی گائیڈ لائنز
موجودہ مالیاتی بجٹ میں حکومتِ پاکستان نے فائلرز کو ٹیکسوں میں غیر معمولی ریلیف فراہم کیا ہے جبکہ نان فائلرز پر گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے غیر دستاویزی معیشت کو ختم کرنے کے لیے ‘لیٹ فائلرز’ (Late Filers) یعنی مقررہ تاریخ کے بعد ریٹرن جمع کرانے والوں پر بھی اضافی ٹیکسز عائد کیے ہیں۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ستمبر کے مہینے کا انتظار کرنے کی بجائے جولائی اور اگست کے دوران ہی اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ سے رابطہ کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی تکنیکی غلطی یا جرمانے سے محفوظ رہا جا سکے۔






