حکومت پاکستان نے آٹو انڈسٹری کو بحال کرنے اور عام آدمی کے لیے گاڑی کا حصول آسان بنانے کے لیے ایک بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (AIDEP 2026-31) کے تحت حکومت نے کار فنانسنگ (Car Financing) کے قوانین میں نرمی کرتے ہوئے قرض کی حد بڑھانے اور اقساط کا دورانیہ طویل کرنے کی تجویز دی ہے۔
یہ نئی پالیسی ان افراد کے لیے امید کی کرن ہے جو مہنگی گاڑیوں اور بینکوں کی سخت شرائط کی وجہ سے اپنی گاڑی کا خواب پورا نہیں کر پا رہے تھے۔ ذیل میں ہم اس 7 سالہ کار اقساط پلان کی تفصیلات، اہلیت کے معیار اور ماہانہ اقساط کا مکمل تجزیہ کریں گے
حکومت کی نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اہم خصوصیات
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کی جانے والی اس ڈرافٹ پالیسی کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
قرض کی مدت میں اضافہ: گاڑیوں کی فنانسنگ کا دورانیہ 5 سال سے بڑھا کر 7 سال کرنے کی تجویز ہے۔ اس سے پہلے اسٹیٹ بینک نے درآمدات کو کم کرنے کے لیے یہ حد 5 سال (اور بڑی گاڑیوں کے لیے 3 سال) کر دی تھی۔
قرض کی حد (Loan Limit): صارفین اب 1 کروڑ (10 ملین) روپے تک کا کار لون حاصل کر سکیں گے۔ پہلے یہ حد اکثر 30 لاکھ روپے تک محدود تھی۔
کم ڈاؤن پیمنٹ: گاڑی بک کروانے کے لیے کم از کم ایڈوانس پیمنٹ (Down Payment) کو 30 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اہلیت اور شرائط (Eligibility Criteria)
اگرچہ حتمی نوٹیفکیشن کا انتظار ہے تاہم مجوزہ پالیسی کے مطابق اہلیت کا معیار کچھ یوں ہو سکتا ہے:
مقامی گاڑیاں: یہ سہولت صرف پاکستان میں تیار ہونے والی (Locally Manufactured/Assembled) گاڑیوں کے لیے دستیاب ہوگی۔ درآمد شدہ (Imported) گاڑیوں پر پرانی پابندیاں برقرار رہ سکتی ہیں۔
ٹیکس فائلر: 1 کروڑ تک کے بڑے لون کے لیے درخواست گزار کا ایکٹو ٹیکس پیئر (Filer) ہونا اور آمدنی کا ثبوت (Salary Slip/Bank Statement) دینا لازمی ہوگا۔
کریڈٹ ہسٹری: درخواست گزار کا بینکنگ ریکارڈ صاف ہونا ضروری ہے یعنی پہلے سے نادہندہ نہ ہو۔
سال بمقابلہ 7 سال: کون سا پلان بہتر ہے؟
گاڑی خریدتے وقت سب سے اہم فیصلہ قرض کی مدت کا ہوتا ہے۔ کیا آپ کو 5 سال کا پلان لینا چاہیے یا 7 سال کا؟ آئیے 30 لاکھ روپے کے قرض اور 16 فیصد متوقع شرح سود (KIBOR + Spread) کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں:
ماہانہ بوجھ: 7 سالہ پلان میں آپ کی ماہانہ قسط تقریباً 13,300 روپے کم ہوگی جو ماہانہ بجٹ کو سنبھالنے میں مددگار ہے۔
کل لاگت: لیکن نقصان یہ ہے کہ 7 سالہ پلان میں آپ کو بینک کو 6 لاکھ روپے سے زائد اضافی سود ادا کرنا پڑے گا۔
اگر آپ ماہانہ قسط آسانی سے ادا کر سکتے ہیں تو 5 سالہ پلان بہتر ہے کیونکہ اس میں سود کی مد میں بچت ہوتی ہے۔ لیکن اگر آپ کی آمدنی محدود ہے اور آپ بڑی گاڑی (جیسے 1000cc سے اوپر) لینا چاہتے ہیں تو 7 سالہ پلان آپ کے لیے گاڑی کا مالک بننا ممکن بنا دے گا۔
شرح سود (Interest Rate) کیا ہوگی؟
نئی پالیسی میں شرح سود کا براہ راست ذکر نہیں لیکن پاکستان میں کار لون عام طور پر KIBOR (کراچی انٹر بینک آفرڈ ریٹ) کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ مئی 2026 کے معاشی اشاریوں کے مطابق:
اگر اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ کم کرتا ہے (مثلاً 12-13 فیصد) تو صارفین کے لیے کار لون کا ریٹ تقریباً 15 سے 17 فیصد کے درمیان متوقع ہے۔
یہ ریٹ بینکوں کے فکسڈ یا فلوٹن (Floating) ریٹ کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔ فکسڈ ریٹ میں آپ پوری مدت کے لیے ایک ہی شرح ادا کرتے ہیں جبکہ فلوٹنگ میں یہ KIBOR کے ساتھ کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے۔
حکومت کا یہ اقدام آٹو سیکٹر کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو وہ متوسط طبقہ جو پہلے صرف چھوٹی گاڑیوں (660cc) تک محدود تھا اب بڑی فیملی کاروں (جیسے سیڈان یا ایس یو وی) کے لیے بھی اپلائی کر سکے گا۔






