یورپ میں روزگار کی تلاش، بین الاقوامی ہنر مندوں کی منتقلی اور ڈیجیٹل ورک پرمٹ سسٹمز کے حوالے سے ایک انتہائی شاندار اور بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ ڈنمارک کی حکومت نے ملک میں لیبر فورس کی شدید قلت کو دور کرنے کے لیے آفیشل طور پر ایک نئے ورک روٹ کی قانون سازی مکمل کر لی ہے جسے ڈنمارک ورک ویزا نیا قانون کا نام دیا گیا ہے۔
9 ستمبر 2026 کو ڈنمارک کی امیگریشن اتھارٹی اور لیبر مارکیٹ مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نیا پاتھ وے مخصوص 16 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کے لیے کھولا گیا ہے جس کے تحت اب وہ انتہائی کم مالیاتی ٹیرف اور آسان دستاویزی مینوئل کے ذریعے ڈنمارک میں مستقل رہائش اور روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔
کلیکٹو ایگریمنٹ بزنس اسکیم کے بنیادی پیرامیٹرز اور 16 ممالک کی لسٹ
ڈنمارک کے نئے قانون کے مطابق، اس نئے امیگریشن پاتھ وے کا فائدہ اٹھانے کے لیے ہر کمپنی اہل نہیں ہوگی بلکہ صرف وہی فرمز اس کے تحت غیر ملکیوں کو ہائر کر سکیں گی جو حکومت سے باقاعدہ رجسٹرڈ اور سرٹیفائیڈ ہوں گی۔
اس نئے سوفٹ وئیر بیسڈ امیگریشن کوریڈور کے بنیادی لاجسٹک اور فنانشل قوانین درج ذیل ہیں:
16 ترجیحی ممالک کا کوٹہ: اس اسکیم کے تحت پاکستان کے قریبی دوست ممالک اور اہم ترین ٹیک ہبز سمیت دنیا کے 16 مخصوص ممالک کو شامل کیا گیا ہے جن میں انڈیا، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، ملائیشیا، سنگاپور، یوکرین، برازیل، چین اور دیگر وسطی یورپی ریاستیں شامل ہیں۔
کم از کم تنخواہ کا فریم ورک: ڈنمارک کے روایتی پے لمٹ اسکیم کے تحت غیر ملکیوں کے لیے سالانہ تنخواہ کی حد 552,000 کرون (DKK) مقرر ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔ لیکن اس نئے قانون کے تحت تنخواہ کے تھریش ہولڈ کو ریکارڈ حد تک کم کر کے صرف 322,000 ڈینش کرون (DKK) سالانہ فکس کر دیا گیا ہے۔
کمپنیوں کے لیے سخت مینوئل شرط: ڈنمارک کا جو بھی ایمپلائر اس روٹ سے مالویئر یا مینوئل لوپ ہولز کے بغیر ورکرز بلانا چاہتا ہے اس کا کم از کم 2 سال سے فعال ہونا اور اس کے پاس کم از کم 10 فل ٹائم مقامی ملازمین ہونا لازمی ہے۔
پوزیٹو لسٹ کی اپ گریڈیشن اور ہنر مندوں کے لیے وائٹ لسٹنگ
ڈنمارک کی ایجنسی فار انٹرنیشنل ریکروٹمنٹ اینڈ انٹیگریشن (SIRI) نے لیبر مارکیٹ کی مانیٹرنگ کے بعد اپنی مشہور زمانہ پوزیٹو لسٹ برائے ہنر مند افراد کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ اگر کسی امیدوار کو اس لسٹ میں شامل 63 سے زائد مخصوص شارٹیج جابز میں سے کسی بھی شعبے میں نوکری کی پیشکش حاصل ہوتی ہے، تو وہ منٹوں میں اپنا ویزا لاک کر سکتا ہے۔
اس لسٹ میں شامل ترجیحی شعبے درج ذیل سائنسی کیٹیگریز کے مطابق فکس کیے گئے ہیں:
آئی ٹی اور انجینئرنگ سیکٹر : سافٹ ویئر ڈویلپرز، ڈیٹا آرکیٹیکٹس، کلاؤڈ مینیجرز، بزنس انٹیلیجنس مینیجرز اور الیکٹرانکس ٹیکنیشنز۔
ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر: ڈاکٹرز، نرسیں، ڈینٹسٹ، پیرامیڈیکس اور سوشل و ہیلتھ کیئر ورکرز۔
تکنیکی اور مینوفیکچرنگ اسکلز: پلمبرز، الیکٹریشنز، ویلڈر، پائلٹس، شیف اور بیکرز۔
3 سالہ قابلِ تجدید ویزا اور تیز ترین فاسٹ ٹریک پروسیسنگ
اس نئے ڈنمارک ورک ویزا نیا قانون کے تحت منتخب ہونے والے ورکرز کو ابتدائی طور پر 3 سال کا قابلِ تجدید ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا جسے بعد میں مستقل رہائش (PR) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
نادرا کے بائیومیٹرک اسکیننگ پورٹل کی طرح، ڈنمارک کی حکومت نے بھی اس پورے ویزا پروسیس کو کیش لیس، پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ کر دیا ہے۔ سرٹیفائیڈ کمپنیوںکے لیے فاسٹ ٹریک اسکیم کے تحت ویزا پروسیسنگ کا وقت محض 30 دن مقرر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مینوئل تاخیر کے بغیر ورکرز فوری طور پر ڈنمارک پہنچ کر اپنی ڈیوٹی جوائن کر سکیں۔ یہ تمام ویزے امیگریشن کونسل رولز کے تحت براہِ راست آن لائن پورٹل پر ٹریک کیے جا سکتے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کے لیے urdu khabar وزٹ کریں۔






