پاکسپاکستان کے توانائی کے شعبے میں خود کفزی اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سندھ میں گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کے حوالے سے ایک اور شاندار کامیابی سامنے آئی ہے۔ ملک کی معروف اور اہم ترین ایکسپلوریشن کمپنی پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) نے صوبہ سندھ کے ساحلی اور نیم دلدلی ضلع سجاول میں واقع اپنے سیرانی بلاک کے اندر ایک نئے کنویں ڈولفن ایکس ون (Dolphin X-1) سے قدرتی گیس اور کنڈنسیٹ (خام تیل) کے نئے ذخائر دریافت کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم ترین دریافت ملکی سطح پر توانائی کے بحران پر قابو پانے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی طرف ایک اور اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
سیرانی بلاک اور جوائنٹ وینچر کی تفصیلات
اس کامیاب پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تکنیکی اور انتظامی امور پی پی ایل کی قیادت میں انجام دیے گئے۔ اس سیرانی ایکسپلوریشن بلاک کے تحت ملک کے دو بڑے ادارے آپس میں شراکت دار ہیں:
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ : اس پراجیکٹ کا بنیادی آپریٹر ہے جس کے پاس 75 فیصد ورکنگ انٹرسٹ (حصہ) موجود ہے۔
گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ : یہ ادارہ اس جوائنٹ وینچر میں بقیہ 25 فیصد شیئرز کا حامل ہے۔
اس اشتراک کا بنیادی مقصد ملکی سرحدوں کے اندر اندرونی ذرائع سے ہائیڈرو کاربن کی تلاش کو تیز کرنا ہے تاکہ صنعتی اور گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس فراہم کی جا سکے۔
ڈولفن ایکس ون کنویں کی تکنیکی جھلکیاں
ڈولفن ایکس ون کنویں کی کھدائی کا عمل 17 اپریل 2026 کو شروع کیا گیا تھا ۔ جدید مشینری، انجینئرنگ کی مہارت اور ارضیاتی جائزوں کی مدد سے اس کنویں کی کھدائی کو 3,850 میٹر کی گہرائی تک کامیابی سے لے جایا گیا جہاں چلتن فارمیشن کے تہوں میں گیس کے ذخائر کی نشاندہی ہوئی۔
کنویں کی جانچ پڑتال کے دوران حاصل ہونے والے پیداواری اعداد و شمار انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں:
قدرتی گیس کی پیداوار: کنویں سے یومیہ 0.942 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس کا باقاعدہ اخراج ہو رہا ہے ، جس کی حرارتی صلاحیت تقریباً 1000 فی مکعب فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
کنڈنسیٹ (خام تیل): ابتدائی ٹیسٹنگ کے مراحل کے دوران اس کنویں سے 94 بیرل یومیہ تک کنڈنسیٹ حاصل ہوا، جو بعد میں استحکام کے ساتھ 46 بیرل یومیہ پر ریکارڈ کیا گیا ۔
ویل ہیڈ پریشر: یہ پیداوار سطح پر 32/64 انچ کے چوک سائز پر 211 کے فلوئنگ پریشر کے ساتھ حاصل کی گئی۔
لوئر انڈس بیسن میں تاریخی اہمیت
یہ دریافت اس لحاظ سے بھی انتہائی منفرد اور تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ لوئر انڈس بیسن کے اس مخصوص جغرافیائی حصے میں چلتن فارمیشن (جراسک دور کی تہوں) سے تجارتی پیمانے پر ہائیڈرو کاربن کی یہ پہلی کامیاب تلاش ہے۔ سجاول کا یہ علاقہ اپنے نیم دلدلی اور کٹھن زمینی حالات کی وجہ سے تکنیکی طور پر ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے جہاں روایتی طریقوں سے کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔
پی پی ایل کے ماہرینِ ارضیات اور فیلڈ انجینئرنگ ٹیم نے جدید سیسمک ڈیٹا اور جدید ترین آلات کا استعمال کرتے ہوئے اس مشکل علاقے کی تہہ تک رسائی حاصل کی۔ اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے ساحلی اور دلدلی علاقوں میں تیل اور گیس کے پائیدار ذخائر موجود ہیں جن سے آنے والے دنوں میں مزید اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔
معاشی اور صنعتی فوائد پر اثرات
اس مقامی دریافت کے نتیجے میں پاکستان کے قومی خزانے اور انرجی سیکٹر کو براہِ راست ریلیف ملے گا۔ درآمدی مائع قدرتی گیس اور دیگر ایندھن کی خریداری پر خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ پی پی ایل اب اس نئے دریافت شدہ فیلڈ کے تجارتی حجم اور وسعت کا مزید تخمینہ لگانے کے لیے قریبی ساختوں پر بھی ارضیاتی کام جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس کے دائرہ کار کو مزید پھیلایا جا سکے۔






