حکومت پاکستان نے مالیاتی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں امپورٹڈ الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے لیے ایک نیا اور جامع ٹیکس سلیب ڈھانچہ متعارف کرایا ہے۔ اس نئے قانون کا بنیادی مقصد مہنگی اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنا اور سستی وہیکلز کو فروغ دینا ہے۔ اس بجٹ کے اعلان کے بعد سے مارکیٹ میں یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا نئی ٹیکس پالیسی سے چینی برانڈ D کی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھ جائیں گی؟
خوش قسمتی سے حالیہ رپورٹس اور مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق موجودہ بجٹ میں تجویز کردہ ڈیوٹی اسٹرکچر سے D کی موجودہ کاروں کی قیمتوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔
نئے ای وی (EV) ٹیکس سلیبس اور ڈیوٹی کا نیا ڈھانچہ
حکومت نے سی بی یو (CBU) یعنی مکمل تیار شدہ حالت میں درآمد کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں کو تین مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے:
2 کروڑ روپے تک کی گاڑیاں: وہ تمام امپورٹڈ الیکٹرک گاڑیاں جن کی مالیت 20 ملین (2 کروڑ) روپے تک ہے انہیں کسٹمز ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ حاصل رہے گا۔ یعنی ان پر ڈیوٹی 0 فیصد ہوگی۔
2 کروڑ سے 3 کروڑ روپے تک کی گاڑیاں: ایسی الیکٹرک کاریں جن کی قیمت 20 ملین سے 30 ملین روپے کے درمیان ہے ان پر 30 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔
3 کروڑ روپے سے زائد کی گاڑیاں: 30 ملین (3 کروڑ) روپے سے اوپر کی لگژری الیکٹرک وہیکلز پر 40 فیصد بھاری کسٹمز ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی اسمبلنگ (CKD) کو فروغ دینے کے لیے پرزہ جات کی امپورٹ پر محض 1 فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت کو 30 جون 2027 تک بڑھا دیا ہے۔
پاکستان میں بی وائی ڈی گاڑیوں کی قیمتیں کیوں تبدیل نہیں ہوئیں؟
بجٹ کے اس نئے قانون کے مطابق پاکستان میں بی وائی ڈی گاڑیوں کی قیمتیں مکمل طور پر محفوظ اور مستحکم رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ D کمپنی نے پاکستان میں جو بھی ماڈلز (ایس یو وی اور سیڈان) متعارف کروائے ہیں ان سب کی قیمتیں حکومت کی مقرر کردہ 2 کروڑ روپے کی حد سے کم ہیں۔
چونکہ یہ تمام ماڈلز 20 ملین روپے کے اندر آتے ہیں اس لیے یہ 0 فیصد کسٹمز ڈیوٹی سلیب کے تحت آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے بجٹ کے بعد اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا اور بکنگ پرانی قیمتوں پر ہی جاری ہے۔
بجٹ 2026-27 کے بعد بی وائی ڈی گاڑیوں کی مکمل پرائس لسٹ
اگر آپ اس وقت پاکستان میں D کی نئی الیکٹرک کار خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو بجٹ کے بعد کی آفیشل قیمتیں درج ذیل ہیں:
| گاڑی کا ماڈل (D Model) | بجٹ کے بعد کی قیمت (روپے) |
| D Atto 2 Premium | 7,290,000 |
| D Atto 3 Advance | 8,990,000 |
| D Seal Dynamic | 14,790,000 |
| D Seal Premium | 16,990,000 |
| D Sealion 7 Advanced | 15,490,000 |
| D Shark 6 Premium | 19,950,000 |
اس لسٹ سے واضح ہے کہ D کی سب سے مہنگی گاڑی (Shark 6 Premium) بھی 19.95 ملین روپے کی ہے جو کہ 2 کروڑ روپے کی ڈیوٹی فری لائن سے معمولی سی کم ہے جس کی وجہ سے یہ بھاری ٹیکس سے بال بال بچ گئی ہے۔
لوکل اسمبلنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل
بی وائی ڈی نے میگا موٹرز (ہبکو کے ذیلی ادارے) کے اشتراک سے پاکستان میں مقامی اسمبلنگ پلانٹ لگانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ بجٹ 2026-27 میں سی کے ڈی (CKD) کٹس پر رعایت کی مدت میں توسیع سے کمپنی کو طویل مدتی فائدہ ہوگا۔ جب پاکستان میں ان گاڑیوں کی مقامی پیداوار شروع ہوگی تو کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر امپورٹ ٹیکسز مزید کم ہو جائیں گے جس سے مستقبل میں ان گاڑیوں کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
اگر آپ الیکٹرک گاڑی شفٹ کرنے کا سوچ رہے ہیں تو موجودہ ٹیکس فری سلیب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بہترین وقت ہے۔






