پاکستان کی آٹوموبائل مارکیٹ اس وقت ایک بڑے تاریخی موڑ سے گزر رہی ہے۔ پٹرول اور ڈیزیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں، روپے کی گرتی ہوئی قدر اور ماحولیاتی آلودگی (خصوصاً اسموگ) کے باعث عام پاکستانی صارف اب روایتی گاڑیوں کے متبادل تلاش کر رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 2026 میں پاکستان میں الیکٹرک گاڑی خریدنا ایک عملی اور فائدہ مند سودا ہے؟
حکومتِ پاکستان کی نئی توانائی پالیسیوں اور مقامی سطح پر ای وی (EV) مینوفیکچرنگ کی شروعات نے اس شعبے میں نئی جان ڈال دی ہے۔ تاہم ایک اوسط ملکی صارف کے لیے اب بھی قیمت، چارجنگ اسٹیشنز کی دستیابی اور گاڑی کی ری سیل ویلیو جیسے معاملات تشویش کا باعث ہیں۔ آئیے اس گائیڈ میں تمام پہلوؤں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہیں۔
حکومتی پالیسی اور سبسڈیز کا جائزہ
حکومتِ پاکستان نے الیکٹرک گاڑیوں کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت Engineering Development Board (EDB) نے حال ہی میں نیشنل الیکٹرک وہیکل (NEV) پالیسی 2025-30 کا نفاذ کیا ہے Engineering ۔
اس پالیسی کے تحت حکومت کا ہدف ہے کہ اگلے چند سالوں میں ملک کی 30 فیصد ٹریفک کو الیکٹرک پر منتقل کیا جائے ۔ اس مقصد کے لیے ای وی پارٹس کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں غیر معمولی چھوٹ دی گئی ہے تاکہ مقامی سطح پر اسمبلنگ کو فروغ دیا جا سکے ۔ مزید برآں حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے پیو (PAVE) پروگرام کے ذریعے الیکٹرک بائیکس اور رکشوں پر اربوں روپے کی نقد سبسڈی بھی فراہم کی جا رہی ہے
پٹرول بمقابلہ بجلی: لاگت کا موازنہ
ایک عام صارف کے لیے سب سے بڑا محرک ماہانہ اخراجات میں کمی ہے۔ اگر چہ الیکٹرک کاروں کی ابتدائی قیمت روایتی کاروں سے زیادہ ہے لیکن طویل مدت میں یہ انتہائی سستی ثابت ہوتی ہیں:
رننگ کاسٹ (Running Cost): پٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں ایک پاکستان میں الیکٹرک گاڑی چلانے کا خرچہ تقریباً 60 سے 70 فیصد تک کم ہوتا ہے لگا ہوا ہے تو آپ کا سفر تقریباً مفت ہو جاتا ہے۔
مینٹیننس (Maintenance): الیکٹرک گاڑیوں میں انجن، انجن آئل، فلٹرز، اور چنگاری پلگ (Spark Plugs) جیسے متحرک پرزے نہیں ہوتے۔ اس لیے ان کی ماہانہ ٹیوننگ اور سروسنگ کا خرچہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر اور رینج اینگزائٹی
ماضی میں ای وی نہ خریدنے کی سب سے بڑی وجہ چارجنگ اسٹیشنز کا نہ ہونا تھا، لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔
شہری نیٹ ورک: کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں اب پبلک فاسٹ چارجرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی National Energy Efficiency & Conservation Authority (NEECA) کے نئے قوانین کے تحت ملک بھر میں کمرشل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے عمل کو آسان بنا دیا گیا ہے
موٹروے نیٹ ورک: اہم شاہراہوں اور موٹرویز پر بھی چارجنگ پوائنٹس نصب کیے جا چکے ہیں جس کی وجہ سے اب بین الشہری سفر بھی ممکن ہو چکا ہے
گاڑیوں کی رینج: جدید ای وی گاڑیاں اب ایک سنگل چارج پر 300 سے 500 کلومیٹر تک کا فاصلہ آسانی سے طے کر لیتی ہیں جو روزمرہ کے استعمال کے لیے کافی ہے
موجودہ چیلنجز جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
سہولیات کے باوجود پاکستانی مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑی خریدنے کے چند منفی پہلو بھی ہیں:
مہنگی بیٹریاں: ای وی کا سب سے مہنگا حصہ اس کی بیٹری ہے۔ اگرچہ بیٹریاں کئی سال چلتی ہیں لیکن ان کی تبدیلی کی لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے نرخ: پاکستان میں بجلی کا بحران اور بڑھتے ہوئے ٹیرف ہوم چارجنگ کی لاگت کو متاثر کر سکتے ہیں حالانکہ یہ اب بھی پٹرول سے سستا ہی پڑتا ہے
ری سیل مارکیٹ (Resale Market): روایتی گاڑیوں کے برعکس ابھی پاکستان میں ای وی کی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی ہے
آخری فیصلہ: کیا آپ کو ای وی خریدنی چاہیے؟
اگر آپ بڑے شہر میں رہتے ہیں آپ کا روزانہ کا سفر طے شدہ ہے اور خصوصاً اگر آپ کے گھر میں سولر پینلز نصب ہیں تو پاکستان میں الیکٹرک گاڑی میں سرمایہ کاری کرنا آپ کے لیے 2026 کا بہترین اور انتہائی منافع بخش فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے مسلسل دور دراز اور دیہی علاقوں کا سفر کرنا ہے جہاں بجلی اور چارجنگ کی سہولت دستیاب نہیں، تو شاید آپ کو ایک ہائبرڈ (Hybrid) گاڑی کا انتخاب کرنا چاہیے۔






