راولپنڈی سے موصول ہونے والی طبی اطلاعات کے مطابق بشریٰ بی بی کی آنکھ کا آپریشن آج 17 اپریل 2026 کو ایک نجی ہسپتال میں کامیابی سے مکمل ہونے اور ایک رات قیام کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ سابق خاتونِ اول کو جمعرات کی رات بصارت میں شدید دشواری کی شکایت پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
بشریٰ بی بی کی ہسپتال منتقلی کی خبر آج صبح اس وقت سامنے آئی جب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے تصدیق کی کہ انہیں جیل کے سیل سے راولپنڈی کے ایک ماہر امراضِ چشم کے مرکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ جیل حکام کے مطابق یہ منتقلی اس وقت عمل میں لائی گئی جب جیل کے میڈیکل بورڈ نے بصارت کے مستقل نقصان سے بچنے کے لیے فوری سرجری کی سفارش کی۔
مرض کی تشخیص اور ہنگامی سرجری
جیل انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ طبی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بشریٰ بی بی گزشتہ کئی دنوں سے اپنی دائیں آنکھ میں دھندلاہٹ اور سیاہ دھبوں کی شکایت کر رہی تھیں۔ ماہرینِ چشم کے ایک پینل کے معائنے کے بعد ان میں ریٹینا ڈیٹیچمنٹ (پردہ بصارت کا اپنی جگہ سے ہٹنا) کی تشخیص ہوئی جو کہ ایک انتہائی نازک طبی حالت ہے۔
یہ سرجری ماہرِ امراضِ چشم پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور ان کی ٹیم نے ایک نجی ہسپتال میں انجام دی۔ جمعرات کی شام دیر گئے ہونے والے اس آپریشن کا مقصد ریٹینا کو دوبارہ اپنی جگہ پر جوڑنا تھا تاکہ بصارت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ طبی حکام نے اس آپریشن کو کامیاب قرار دیا ہے تاہم انہوں نے آپریشن کے بعد انتہائی احتیاط اور آرام پر زور دیا ہے۔
ہسپتال سے ڈسچارج اور اڈیالہ جیل منتقلی
آپریشن کے بعد بشریٰ بی بی کو ایک رات کے لیے ہائی سیکیورٹی وارڈ میں زیرِ مشاہدہ رکھا گیا۔ آج دوپہر حتمی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو سفر کے لیے موزوں قرار دیا۔ پنجاب پولیس اور جیل وارڈنز کی سخت سیکیورٹی میں انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا ہے جہاں وہ توشہ خانہ-2 اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیسز میں اپنی سزا کاٹ رہی ہیں۔
جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر ہی ان کی بحالی کے لیے ایک خصوصی طبی منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس میں آنکھوں میں باقاعدگی سے قطرے ڈالنا اور سرجیکل ٹیم کے ساتھ طے شدہ فالو اپ معائنے شامل ہیں۔
پی ٹی آئی قیادت کے شدید تحفظات
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اگرچہ سرجری ضروری تھی لیکن پارٹی کو جیل میں حفظانِ صحت کی ناقص صورتحال اور سابق خاتونِ اول کو طبی سہولیات تک بروقت رسائی نہ ملنے پر شدید تحفظات ہیں۔
پارٹی نے باضابطہ طور پر وزارت داخلہ اور محکمہ جیل خانہ جات پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ذاتی معالجین اور خاندان کے افراد کو بحالی کے عمل کی نگرانی کی اجازت دی جائے، کیونکہ طبی ہنگامی صورتحال کے دوران خاندان تک رسائی ایک بنیادی قانونی حق ہے۔
تازہ خبریں اور نئی اپڈیٹس جاننے کے لیے Urdu Khabar پر ضرور جائیں






