پاکستان کے وفاقی ریگولیٹری انفراسٹرکچر، پبلک فنانس مینجمنٹ، مانیٹری فریم ورک اور مینوفیکچرنگ لاجسٹکس کے تزویراتی کوریڈورز سے ملکی برآمدی شعبے کا ہنگامی معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو لکھے گئے خط میں درآمدات پر عائد کردہ نئے 0.90 فیصد انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کو فوری معطل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
12 اکتوبر 2026 کو پورٹل پر لائیو سنکہونے والے دستاویزی لاگز کے مطابق اس تجارتی تصادم کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر پنجاب انفراسٹرکچر سیس ٹیکسٹائل تنازع کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر متحرک ہو چکا ہے۔ ایپٹما کے چیئرمین اسد شفیع نے 9 اکتوبر کو لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ یہ نیا لیوی ٹیکسٹائل ملز کے لیے خام مال، کیمیکلز اور پریمیم اسپیئر پارٹس کی مینوفیکچرنگ لاگت کو ہولناک حد تک بڑھا دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سندھ کی بندرگاہوں پر پہلے ہی سندھ انفراسٹرکچر سیس وصول کیا جاتا ہے جس کے بعد پنجاب کا یہ نیا ٹیکس مینوفیکچررز پر ڈبل ٹیکسیشن کا شدید مینوئل دباؤ مینوفیکچر کرے گا جو ملکی برآمدات کو بین الاقوامی اوپن مارکیٹ میں یکسر فیز آؤٹ کر سکتا ہے۔
ڈبل ٹیکسیشن اور پاکستان سنگل ونڈو کا آڈٹ
ایپٹما مینیجرز کے مطابق یہ اضافی سیس کپاس اور مینوفیکچرڈ ریشوں کی درآمد کو مہنگا کر کے سرمایہ کاری کو آٹو بلاک کر دے گا۔ تنظیم نے مریم نواز سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان سنگل ونڈو پورٹل پر اس ٹیکس کی لائیو وصولی فوری طور پر روکنے کے احکامات صادر کریں۔
ٹیکسٹائل ان پٹ لاگت اور ٹیکس پیرامیٹرز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق آٹو لاک ہے:
| صنعتی امپورٹ ٹیکس لاگ | مقررہ فیسکل ریشو حجم | ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| پنجاب انفراسٹرکچر سیس | 0.90 فیصد اضافی امپورٹ کٹ | ٹیکسٹائل ان پٹ کی مسابقتی پوزیشن کو برقرار رکھنا ناگزیر۔ |
| سندھ پورٹ کلیئرنس گرڈ | سندھ انفراسٹرکچر لیوی لاک | ڈبل ٹیکسیشن کے اینٹی چیٹنگ رولز کے تحت تزویراتی جائزہ۔ |
| پاکستان سنگل ونڈو | آن لائن فنڈز کلیکشن پورٹل | پیپر لیس موڈ میں سیس وصولی معطل کرنے کی پراعتماد اپیل۔ |
ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ سے ہنگامی اجلاس کی درخواست کی ہے تاکہ ملکی فیسکل لکویڈیٹی کو فیز آؤٹ ہونے سے بچایا جا سکے۔






