طبی انفراسٹرکچر، ہیلتھ کیئر لاجسٹکس، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے تزویراتی کوریڈورز سے اینٹی کرپشن انفورسمنٹ کو مستحکم کرنے کا سب سے بڑا اور پراعتماد ترین تادیبی بریک تھاؤ سامنے آیا ہے۔ ایف آئی اے اسلام آباد کے اینٹی کرپشن سرکل نے کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی اے ویکسین اسکینڈل گرفتاری لاگز کو فعال کر کے بی ایچ ایس پی کے 3 سینیئر افسران کو دھر لیا ہے۔
22 اکتوبر 2026 کو وفاق سے موصول ہونے والے جوڈیشل لاگز کے مطابق ایف آئی آر نمبر 61/2026 کے تحت ڈائریکٹر محمد عابد حسین شاہ، سابق ڈائریکٹر پردیپ کمار اور میڈیکل آفیسر غلام مرتضیٰ شاہ کو 20 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان ملزمان پر میننجوکوکل میننجائٹس اور انفلوئنزا ویکسین کے 5 سالہ کنٹریکٹ میں 2.445 ارب روپے کے فیسکل لوپ ہولز پیدا کرنے کا سنگین الزام ہے۔ انہوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی منظور شدہ 2,660 روپے کی پریمیم قیمت کے برعکس سنگل بیڈ پر مارکیٹ سروے کے بغیر 3,475 روپے فی ویکسینیشن کا ریٹ آٹو لاک کیا جس سے فی ڈوز 815 روپے کی اوور پرائسنگ آڈٹ میں پکڑی گئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے مینوئل التوا یکسر بلاک کرتے ہوئے ملزمان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے جو پبلک ہیلتھ فنڈز کو بہتر بنانے کے لیے اولین ترجیح مانا گیا ہے۔
پروکیورمنٹ کمیٹی ٹریکنگ، ڈریپ ریٹ اور وزیرِ اعظم انکوائری کا آڈٹ
وفاقی مینیجرز کے مطابق سابق ڈائریکٹر پردیپ کمار نے پروکیورمنٹ کمیٹی کو مینوئل طور پر تبدیل کر کے خود چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس میگا کرپشن گرڈ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی کلاؤڈ پر لائیو سنک کر دی ہے۔
ویکسین فراڈ کے فیسکل حجم اور ملزمان کے آپریشنل لاگز کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارکاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| جوڈیشل پراجیکٹ لاگ کوڈ | منظور شدہ اسکینڈل فیسکل بوجھ | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| کل کرپشن والیم گرڈ | 2.445 ارب پاکستانی روپے | 5 سالہ مینوفیکچرڈ ویکسینیشن سپلائی زنجیر پر آٹو لاک۔ |
| اوور پرائسنگ انڈیکس | 815 روپے فی ڈوز اضافی چارج | ڈریپ کے 2,660 روپے کے مقابلے میں 3,475 روپے وصول لائیو سنک۔ |
| ایف آئی اے ریمانڈ کلاؤڈ | 14 روز کا جسمانی ریمانڈ لاک | پیپر لیس موڈ میں بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل خط و کتابت کا لائیو آڈٹ ہالٹ۔ |






