قومی مینوفیکچرڈ انفراسٹرکچر، فنانشل انکلوژن، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ اور اوگرا کے تزویراتی کوریڈورز سے گھریلو ایندھن کے فیسکل خسارے کی مانیٹرنگ کا سب سے بڑا اور ہولناک ترین معاشی بریک تھاؤ سامنے آیا ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں ایل پی جی بلیک مارکیٹنگ قیمتوں میں اضافہ کا باقاعدہ فریم ورک سرگرم ہو چکا ہے جس کے باعث عوام سے محض پانچ دنوں میں 1.4 ارب روپے اضافی بٹور لیے گئے ہیں۔
22 اکتوبر 2026 کو مارکیٹ پورٹلز پر لائیو سنک ہونے والے مانیٹری لاگز ظاہر کرتے ہیں کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ 280 روپے فی کلو کی آفیشل قیمت کے برعکس صارفین سے 600 سے 625 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے انکشاف کیا کہ سردی کی لہر شروع ہوتے ہی روزانہ کی 70,000 کلوگرام تک پہنچ گئی ہے جبکہ تفتان بارڈر بند ہونے سے گیس کی شدید شارٹیج پیدا ہو گئی ہے۔ اوگرا مینیجرز نے پلانٹ آپریٹرز کے خلاف مینوئل التوا یکسر بلاک نہیں کیا جس کے بعد نچلی سطح کے دکانداروں کی ایل پی جی فلنگ کٹس کو پنجاب انفورسمنٹ فورس نے ضبط کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ سپلائی چین انڈیکس کو بہتر کرنے کے لیے اولین ترجیح حاصل کی جا سکے۔
اوگرا ریگولیٹری ناکامی، ٹرانسپورٹ لاجسٹکس اور تفتان بارڈر کلوژر کا آڈٹ
ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر شیخ مکرم کے مطابق اوگرا اب بھی 2010 کی فرسودہ لاگت کے تحت ٹرانسپورٹیشن کٹس کا حساب لگا رہا ہے جبکہ ایل پی جی ٹینکرز کا اصل کرایہ 60,000 روپے تک سنک ہے۔ ملک کی 70 فیصد گیس امپورٹڈ کلاؤڈ پر الائن ہے جس کا تفصیلی سائنسی آڈٹ لائیو سرگرم ہے۔
ایل پی جی سپلائی کے فیسکل حجم اور اوور چارجنگ کٹس کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق آٹو لاک ہے:
| انرجی پراجیکٹ لاگ کوڈ | آفیشل بمقابلہ مارکیٹ ریٹ | لازمی ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| اوگرا آفیشل چارجز | 280 روپے فی کلوگرام ریٹ | مینوئل نفاذ کے لوپ ہولز کے باعث کاغذی قیمت پر آٹو لاک۔ |
| اوور چارجنگ انڈیکس | 600 تا 625 روپے فی کلو والیم | صارفین سے فی کلو 320 روپے کا اضافی فیسکل ان فلو لائیو سنک۔ |
| روزانہ گیس استعمال کلاؤڈ | 70,000 کلوگرام کھپت | 70% امپورٹڈ فریم ورک تفتان بندش کے باعث بزنس ہالٹ۔ |






