پاکستان کی وفاقی حکومت نے طرزِ حکمرانی کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی سسٹم PMOS متعارف کرانے کا انقلابی قدم اٹھایا ہے، جس کا مقصد حکومتی احکامات کی نگرانی اور ڈیجیٹل احتساب کو بہتر بنانا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم آفس آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم (PMOS) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کا بنیادی مقصد وزیرِ اعظم آفس (PMO) سے جاری ہونے والے ہر حکم، ہدایت اور پالیسی کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ، ٹریکنگ اور بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اس اقدام سے سرکاری امور میں روایتی کاغذی فائلوں کے کلچر کا خاتمہ ہوگا اور ڈیجیٹل گورننس کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔
وزیرِ اعظم آفس آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم کیا ہے؟
یہ سسٹم (Prime Minister Office System – PMOS) پاکستان کی تاریخ کا پہلا ایسا حکومتی پلیٹ فارم ہے جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کو فیصلہ سازی اور مانیٹرنگ کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔ عام روایتی سافٹ ویئرز کے برعکس یہ سسٹم محض ڈیٹا محفوظ کرنے کا کام نہیں کرتا بلکہ اس میں شامل AI کی جدید ترین تہہ (Layer) احکامات کو خودکار طریقے سے پڑھنے، ان کی درجہ بندی کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس سسٹم کے ذریعے وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری کردہ کسی بھی آرڈر کا لائف سائیکل (Lifecycle) مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ یعنی آرڈر کے جاری ہونے سے لے کر، متعلقہ وزارت کو منتقلی، کام کی پیشرفت اور کام کی حتمی تکمیل کی تصدیق تک ہر چیز کمپیوٹر اسکرین پر دیکھی جا سکے گی۔
Prime Minister Shehbaz Sharif, today, launched the Artificial Intelligence (AI)-based Prime Minister Office System (PMOS), describing it as a transformative digital platform that will modernise governance by recording, communicating, monitoring and tracking every directive issued… pic.twitter.com/Ik3Zr1LrXE
— Prime Minister's Office (@PakPMO) July 21, 2026
کاغذی فائلوں کے کلچر کا مکمل خاتمہ
سسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں تمام وزارتوں اور سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ اب روایتی فائلوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا:
"آج کے بعد میں یہ توقع نہیں کروں گا کہ کوئی بھی افسر ہاتھ میں کاغذی فائل لیے میرے دفتر آئے، اب تمام تر امور اور فائلوں پر بحث اسی ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوگی۔”
حکومت نے وفاقی وزارتوں کو ایک ماہ کے اندر مکمل طور پر ای-آفس (e-Office) اور اس اے آئی سسٹم پر منتقل ہونے کی سخت ڈیڈ لائن دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس عمل میں کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس جدید ٹیکنالوجی کے اہم ترین فوائد
وزیرِ اعظم آفس آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم کے نفاذ سے ملکی نظامِ حکومت کو درج ذیل بڑے فائدے حاصل ہوں گے:
شفافیت اور احتساب (Transparency & Accountability): ہر سرکاری حکم کا مکمل ریکارڈ اور فائل موومنٹ کا سراغ موجود رہے گا جس سے کرپشن اور فائلوں کو روکنے کے رجحان کا خاتمہ ہوگا۔
بروقت عمل درآمد (Efficient Implementation): ٹیکنالوجی کی مدد سے منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کی فوری نشاندہی ہو سکے گی اور سست روی کے شکار محکموں کو الرٹس موصول ہوں گے۔
وسائل کا بہترین استعمال (Resource Optimization): حکومت انسانی، مالی اور تکنیکی وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر کے بہتر معاشی نتائج حاصل کر سکے گی۔
محفوظ آئی ٹی ماحول (Secure Environment): یہ تمام ڈیٹا ایک انتہائی محفوظ اور محفوظ شدہ آئی ٹی ماحول میں موجود رہے گا جہاں سائبر سیکیورٹی کے عالمی اصولوں کا خیال رکھا گیا ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان اور مستقبل کا وژن
یہ اقدام پاکستان کی "نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس پالیسی 2025” کے وژن کا حصہ ہے جس کے تحت ملک میں ای-گورننس کو فروغ دینا اور نوجوانوں کے لیے لاکھوں ڈیجیٹل ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم آفس میں اس نظام کی کامیابی کے بعد حکومت کا ارادہ ہے کہ اس دائرہ کار کو بتدریج پورے ملک کے انتظامی ڈھانچے اور صوبوں تک پھیلایا جائے تاکہ نچلی سطح تک عوام کو گورننس کے ثمرات مل سکیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور پوری تکنیکی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا جنہوں نے اس انقلابی نظام کو حقیقت کا روپ دیا۔ یہ نظام بلاشبہ پاکستان کو ایک سمارٹ اور ڈیجیٹل اکانومی بنانے کی طرف ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔






