سندھ بھر میں بیوروکریسی، پبلک ایڈمنسٹریشن اور صوبائی سول سروسز کے خواہشمند ہزاروں امیدواروں کے لیے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی ریگولیٹری مینوئل جاری کیا گیا ہے، جس کا اثر ان کے تعلیمی مستقبل پر پڑے گا۔ سندھ پبلک سروس کمیشن نے باقاعدہ طور پر تحریری کمبائنڈ کمپیٹیٹو ایگزامینیشن 2025 کے تمام انتظامی اور لاجسٹک انتظامات کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں۔ محکمے کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ اہم ترین مقابلے کے امتحانات شروع ہو چکے ہیں اور مسلسل جاری رہتے ہوئے 24 ستمبر 2026 تک اختتام پذیر ہوں گے۔
اس صوبائی کلوڈ ایونٹ کی شفافیت کو برقرار رکھنے اور امتحانی لوپ ہولز کا خاتمہ کرنے کے لیے کمیشن نے باقاعدہ طور پر ایس پی ایس سی تحریری امتحانی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔ تمام اہل امیدواروں کے ایڈمٹ کارڈز کو پہلے ہی آفیشل ویب پورٹل پر لائیو اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ کمیشن کے مینیجرز نے تمام کسٹمرز (امیدواروں) کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ امتحانی ہال میں داخلے سے قبل ان سائنسی اور حفاظتی پیرامیٹرز کا باریک بینی سے مطالعہ کریں تاکہ کسی بھی ناگہانی پریشانی یا امتحانی منسوخی سے بچا جا سکے۔
4 بڑے اضلاع میں 10 امتحانی مراکز کا مینوفیکچرڈ پلان
سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا بیس کے مطابق اس بار کمپیٹیٹو امتحانات میں مجموعی طور پر 8,109 امیدوار اپنی تعلیمی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے لائیو اپیئر ہو رہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں امیدواروں کے مینوئل ہجوم کو مینیج کرنے اور نقل مافیا کا راستہ روکنے کے لیے کمیشن نے صوبے کے 4 بڑے اضلاع میں 10 اسمارٹ امتحانی مراکز مینوفیکچر کیے ہیں۔
شہروں کے لحاظ سے ان امتحانی مراکز کی اسٹرکچرل بریک ڈاؤن درج ذیل خطوط پر وضع کی گئی ہے:
کراچی ڈویژن: صوبائی دارالحکومت میں سیکیورٹی مینوئل کو فول پروف بنانے کے لیے 3 بڑے امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
حیدرآباد ڈویژن: سب سے زیادہ امیدواروں کے دباؤ کو مینیج کرنے کے لیے یہاں ریکارڈ 4 امتحانی مراکز لائیو مانیٹرنگ کے ساتھ فعال ہیں۔
سکھر ڈویژن: شمالی سندھ کے طلبہ کی لاجسٹک سہولت کے لیے 2 امتحانی مراکز کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔
لاڑکانہ ڈویژن: دور دراز کے کوریڈورز کے امیدواروں کے لیے 1 مرکزی امتحانی مرکز سوفٹ ویئر اور بائیومیٹرک اسکیننگ کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔
اضافی شیٹس پر مکمل پابندی اور جوابی کاپی کا نیا مینوئل
ایس پی ایس سی نے پیپر لیس آڈٹ اور امتحانی کاپیوں کی مینوئل ہینڈلنگ کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بڑا سٹرکچرل فیصلہ نافذ کیا ہے۔ اس بار کمیشن نے اصل جوابی کاپی کے اندر صفحات کی تعداد کو سائنسی بنیادوں پر بڑھا دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی امتحان کے دوران کسی بھی قسم کی اضافی یا سپلیمنٹری شیٹ فراہم نہ کرنے کی سخت پالیسی وضع کی ہے۔
امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جوابی کاپی پر لکھتے وقت درج ذیل کونسل رولز کا خاص خیال رکھیں:
صفحات کا کفایت شعارانہ استعمال: امیدوار اپنے طویل جوابات کو دستیاب صفحات کے حجم کے مطابق مینیج کریں کیونکہ ایک بار صفحات ختم ہونے پر کوئی متبادل ہارڈ کاپی فراہم نہیں کی جائے گی۔
خالی صفحات پر ڈائیگنل لائن کا نفاذ: پیپر ختم ہونے کے بعد جوابی بک جمع کرانے سے قبل، امیدوار کے لیے قانونی طور پر فرض ہے کہ وہ تمام خالی اور غیر استعمال شدہ صفحات پر قلم سے ایک ترچھی لکیر کھینچے تاکہ بعد میں کسی بھی مینوئل ردوبدل یا جعل سازی کا سراغ لگایا جا سکے۔
الیکٹرانک گیجٹس پر سخت پابندی اور لائیو ہیلپ ڈیسک سپورٹ
امتحانی کوریڈور کے اندر شفافیت کا انڈیکس برقرار رکھنے کے لیے کمیشن نے موبائل فونز، اسمارٹ واچز، بلوٹوتھ ڈیوائسز اور دیگر تمام الیکٹرانک گیجٹس لانے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کی خلاف ورزی پر امیدوار کو تاحیات نااہل کیا جا سکتا ہے۔ نادرا کے بائیومیٹرک اسکیننگ پورٹل کی طرح، امتحانی مراکز پر بھی کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ اگر کسی امیدوار کو اپنی رول نمبر سلپ ڈاؤن لوڈ کرنے میں کسی فنی خرابی کا سامنا ہو، تو وہ فوری طور پر کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ spsc.gov.pk پر لاگ ان کر کے لائیو سپورٹ حاصل کر سکتا ہے یا ان کے کسٹمر ہیلپ لائن نمبر پر کال کر کے اپنے ڈیٹا لاگز کا تکنیکی آڈٹ کروا سکتا ہے۔






