پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی کے شدید معاشی بوجھ سے فوری ریلیف دینے اور سستے ایندھن کی فراہمی کو فول پروف بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک انتہائی اہم اور عوام دوست فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نادرا (NADRA) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے پٹرول سبسیڈی پروگرام کی رجسٹریشن کے لیے موبائل کمپنیوں کی طرف سے وصول کیے جانے والے ایس ایم ایس (SMS) چارجز کو فوری اور مکمل طور پر ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اس انقلابی ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی ہدف پٹرول سبسیڈی اسکیم رجسٹریشن کے مینوئل لوپ ہولز اور مالیاتی اخراجات کو ختم کرنا ہے تاکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں کے کسان، غریب بائیک مالکان اور عام کسٹمرز محض ایک روپے کے بیلنس کی کمی کے باعث اس بڑے فنانشل ریلیف سے محروم نہ رہیں۔ اب ملک بھر کے کروڑوں شہری اپنے موبائل فونز سے بغیر کسی کٹوتی یا پوشیدہ فیس کے، بالکل مفت ایس ایم ایس بھیج کر اس اسکیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
نادرا ڈیجیٹل پورٹل اور 8171 کلاؤڈ سسٹم کے ساتھ اسمارٹ انضمام
وزارتِ پٹرولیم، فنانس ڈویژن اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے مینیجرز کے اشتراک سے تیار کردہ اس نئے اسمارٹ فریم ورک کو 100 فیصد پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے مائنڈ سیٹ کے مطابق اس اسکیم کے تحت رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو کسی بھی سرکاری دفتر یا نادرا سینٹر جانے کے مینوئل سفری اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس ڈیجیٹل کوریڈور کے بنیادی سائنسی اور ریگولیٹری قوانین درج ذیل ہیں:
مفت ایس ایم ایس کوڈ: شہری اپنا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (CNIC) نمبر اور موٹر سائیکل یا گاڑی کا رجسٹریشن نمبر ٹائپ کر کے مخصوص کوڈ 8171 پر بالکل مفت بھیجیں گے۔
لائیو ڈیٹا اسکیننگ: ایس ایم ایس موصول ہوتے ہی نادرا کا مرکزی کلاؤڈ پورٹل اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کا رجسٹریشن سوفٹ ویئر سیکنڈوں میں لائیو ٹریکنگ مکمل کر کے کسٹمر کی اہلیت کا تعین کرے گا۔
انکم انڈیکس کا آڈٹ: سبسیڈی صرف ان موٹر سائیکل، رکشہ اور مہران کار مالکان کو الاٹ کی جائے گی جن کا ماہانہ انکم انڈیکس اور فنانشل پروفائل حکومت کے طے کردہ معاشی معیار کے مطابق وائٹ لسٹ ہوگا۔
پٹرولیم فنڈز کا حجم اور احساس سبسیڈی کا فنانشل ٹیرف رولز
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے اس اسکیم کو طویل مدتی استحکام فراہم کرنے اور بلیک مارکیٹنگ کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے اربوں روپے کے خصوصی فنڈز لاک کر دیے ہیں۔ اس احساس پٹرول ریلیف کے تحت اہل کسٹمرز کو مارکیٹ کی لائیو قیمتوں کے مقابلے میں فی لیٹر پٹرول پر 30 سے 50 روپے تک کی نقد فنانشل سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔
اس فائنینشل فریم ورک کے تحت ادائیگیوں کو مکمل طور پر کیش لیس مینوفیکچر کیا گیا ہے:
ڈیجیٹل الرٹ اور کیو آر کوڈ: رجسٹریشن قبول ہونے پر کسٹمر کے موبائل پر ایک سسٹم جنریٹڈ کیو آر کوڈ (QR Code) یا تصدیقی میسج موصول ہوگا۔
پٹرول پمپس پر اسکیننگ: شہری ملک بھر کے کسی بھی منظور شدہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی (جیسے PSO) کے پمپ پر جا کر اس ڈیجیٹل کوڈ کی لائیو اسکیننگ کروائے گا اور موقع پر ہی سستا پٹرول حاصل کر سکے گا۔ اس کا ریوینیو کسٹمز آڈٹ وفاقی حکومت چوبیس گھنٹے کلاؤڈ ڈیش بورڈ کے ذریعے مانیٹر کرے گی۔
مینوئل مافیا کا خاتمہ اور کسٹمرز کے لیے لائیو ہیلپ ڈیسک سپورٹ
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ اس گرین اور ڈیجیٹل اسکیم کا مقصد صرف مالی امداد نہیں، بلکہ ملک میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو عام کرنا اور کرپشن کے مینوئل کسٹمز کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ اگر کسی کسٹمر کو فیلڈ اسکیننگ، نیٹ ورک ٹائم آؤٹ، یا موبائل کمپنیوں کی طرف سے فیس کٹوتی کی شکایت ہو، تو وہ فوری طور پر پی ٹی اے (PTA) کے آن لائن پورٹل پر لاگ ان کر کے شکایت درج کرا سکتا ہے یا حکومت کی یونیورسل ہیلپ لائن پر کال کر کے اپنے ٹرانزیکشن لاگز کا تکنیکی آڈٹ کروا سکتا ہے۔ یہ نیا سمارٹ فریم ورک پاکستان کے معاشی اشاریوں کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔






