پاکستان کی خارجہ پالیسی، بین الاقوامی سفارت کاری اور جیو پولیٹیکل منظرنامے پر عالمی تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عالمی امن، پائیدار ترقی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے اصولی موقف کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ چارٹر عزم پاکستان کا باقاعدہ اعادہ کیا ہے۔
آج، 15 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک ہائی لیول سفارتی رابطے کے دوران، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے مضبوط امیدوار سفیر رافیل گروسی کے ساتھ تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو کی۔ اس اہم سیشن کا بنیادی محور عالمی امن کے مینوئل کو بہتر بنانا کثیر الجہتی سفارتی کوریڈورز کو مستحکم کرنا اور بین الاقوامی قوانین ومعاہدوں کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔
Deputy Prime Minister @MIshaqDar50 has reaffirmed Pakistan’s enduring commitment to advancing the purposes and principles of the UN Charter and to respecting international law and treaties@ForeignOfficePk #News #RadioPakistan https://t.co/sKwsVOEzzh
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 15, 2026
عالمی امن، ترقیاتی ایجنڈا اور آئی اے ای اے کے ساتھ اسمارٹ اشتراک
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران بین الاقوامی برادری کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور مینوفیکچرڈ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے واشنگٹن اور نیویارک کے عالمی فورمز پر ملک کے سافٹ امیج کی توثیق کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور بنیادی اصولوں کو ملکی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے سب سے اولین ترجیح سمجھتا ہے۔
سفارتی مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسحاق ڈار نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ عالمی امن اور پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا پورا سافٹ ویئر سسٹم اور اس کی ذیلی تنظیمیں انتہائی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاکستان آئی اے ای اے کے پرامن ایٹمی پروگرامز، طبی شعبے میں کلاؤڈ اسکیننگ کٹس کی مینوفیکچرنگ اور زرعی پیداوار بڑھانے کے سائنسی تعاون کو تاریخی اور دور رس معاشی ریلیف تسلیم کرتا ہے۔
اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت اور علاقائی کشیدگی کا حل
ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور لائیو خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ وزرائے کونسل کے طے شدہ رولز کے تحت اسحاق ڈار اور رافیل گروسی نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری مائینڈ سیٹ کے سدِباب کے لیے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر روح کے مطابق عملدرآمد کرنا ہی سب سے بہترین اور موزوں ترین سفارتی راستہ ہے۔
یہ مفاہمت کی یادداشت دونوں فریقین کے مابین مینوئل دفتری تاخیر کو ختم کر کے درج ذیل تین بنیادی پیرامیٹرز فراہم کرتی ہے:
انٹیلی جنس اور سیکیورٹی مانیٹرنگ: علاقائی خطرات کا سراغ لگانے کے لیے سوفٹ وئیر بیسڈ انفارمیشن شیئرنگ کوریڈورز کا نفاذ۔
نیوکلیئر سیفٹی کا آڈٹ: پرامن توانائی کے پراجیکٹس کی کلاؤڈ مانیٹرنگ اور بائیومیٹرک وائٹ لسٹنگ۔
کیش لیس اور پیپر لیس مواصلات: بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کے لیے سفارتی کسٹمز کو ڈیجیٹل اسمارٹ نیٹ ورکس میں تبدیل کرنا۔
اسحاق ڈار نے سفیر رافیل گروسی کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معتبر ترین عہدے کے لیے بطور امیدوار ان کی سفارتی مہم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کا وسیع تجربہ عالمی برادری کے فنانشل اور معاشی اشاریوں کو درست ڈائریکشن فراہم کرے گا۔






