پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل ایجوکیشن کے ریگولیٹری ادارے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک بھر کے ہزاروں ڈینٹسٹری کے طلبہ، اساتذہ اور نجی کالجز کے مینیجرز کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ جاری کیا ہے۔ پی ایم ڈی سی حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ بیچلر آف ڈینٹل سرجری یعنی بی ڈی ایس پروگرام کو 5 سال تک بڑھانے کا پرانا نوٹیفکیشن آفیشل طور پر واپس لے لیا گیا ہے، اور اب پی ایم ڈی سی بی ڈی ایس پروگرام مدت کو دوبارہ کم کر کے سابقہ 4 سالہ تعلیمی کورس پر ہی بحال رکھا جائے گا۔
اس تازہ ترین اور اسمارٹ فیصلے کا بنیادی مقصد ملک کے ڈینٹل تعلیمی نظام میں پائی جانے والی حالیہ بے یقینی اور لاجسٹک بحران کو ختم کرنا ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے پی ایم ڈی سی مینیجرز کو سخت مینوئل اور سائنسی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اس 4 سالہ کورس کی بحالی کا باقاعدہ فائنل نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کریں تاکہ نیا تعلیمی سیشن پرانے قوانین کے مطابق ہی آگے بڑھ سکے۔
5 سالہ توسیعی پروگرام کے نفاذ کی تاریخ اور واپسی کے اسباب
یاد رہے کہ پی ایم ڈی سی نے نومبر 2024 میں ایک کونسل کٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے بی ڈی ایس پروگرام کی مدت کو 4 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے کا لازمی فیصلہ صادر کیا تھا، جسے تعلیمی سیشن 2024-25 سے ملک بھر میں نافذ کیا جانا تھا۔ اس توسیعی منصوبے کے پیچھے ڈینٹل ماہرین کی ایک کمیٹی کے سائنسی اشاریے شامل تھے جن کا ماننا تھا کہ پاکستان کے ڈینٹل کسٹمرز (گریجویٹس) کو دنیا بھر میں 5 سالہ ٹرانسکرپٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہاسپٹل جابز اور بین الاقوامی ٹریننگ کے حصول میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تاہم، اس 5 سالہ ماڈل کے نفاذ کے فریم ورک کو ملک بھر کے نجی ڈینٹل کالجز کی تنظیموں اور پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پرائیویٹ ڈینٹل کالجز کے مینیجرز نے واضح کیا کہ ان کے پاس اضافی تعلیمی سال کے مینوفیکچرڈ بوجھ کو سنبھالنے کے لیے نہ تو کافی انفراسٹرکچر موجود ہے، نہ ہی درکار فیکلٹی اور ہاسپٹل بیڈز کا کوٹہ پورا ہے۔ اس مینوئل اور اسٹرکچرل خلا کے باعث پی ایم ڈی سی نے پہلے جنوری 2025 میں اس فیصلے کو ایک سال کے لیے مؤخر کیا اور اب سینیٹ کمیٹی کے دباؤ کے تحت اسے مستقل طور پر رول بیک کر دیا ہے۔
کلینیکل ٹریننگ اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کا نیا روڈ میپ
پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن (PDA) کے صدر ڈاکٹر محمود شاہ اور دیگر تعلیمی ماہرین نے پی ایم ڈی سی کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ڈینٹل ایجوکیشن میں اصلاحات کا مقصد محض ایک سال کا مینوئل اضافہ کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ موجودہ 4 سالہ کورس کے اندر ہی کلینیکل ٹریننگ، بائیومیٹرک اسکیننگ لیبز اور امتحانی معیار کو بہتر بنانا اصل ہدف ہونا چاہیے۔
نئے سوفٹ وئیر بیسڈ اکیڈمک روڈ میپ کے تحت اب درج ذیل تین بنیادی پیرامیٹرز پر توجہ دی جائے گی:
کلینیکل کمپی ٹینسی : 4 سالہ تعلیمی مدت کے دوران ہی طلبہ کو جدید ترین ڈینٹل آلات اور روبوٹک سرجری کے سافٹ ویئرز کی لائیو اسکیننگ ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔
ہاؤس جاب کی مانیٹرنگ: ڈگری مکمل ہونے کے بعد ایک سال کی لازمی ہاؤس جاب کے مینوئل کو کلاؤڈ مانیٹرنگ کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ جونیئر ڈاکٹرز کا کلوڈ ریکارڈ شفاف رہے۔
ایویڈنس بیسڈ پالیسیز: مستقبل میں کسی بھی تعلیمی تبدیلی سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز، اساتذہ اور نجی کالجز کے ساتھ پیپر لیس آن لائن مشاورت لازمی کی جائے گی۔
یہ اسمارٹ بریک تھرو جہاں طلبہ پر سے اضافی سال کی لاکھوں روپے کی فیسوں کا معاشی دباؤ ختم کرے گا وہیں نجی اور سرکاری میڈیکل نیٹ ورکس کو کسی بھی تعلیمی تعطل سے بچا کر پاکستان کے ہیلتھ کیئر انڈیکس کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔






