جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس، اسپورٹس ڈپلوماسی اور روایتی حریفوں کے مابین تعلقات کے حوالے سے ایک انتہائی تاریخی اور غیر معمولی کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔ بھارت نے پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والے 14ویں ساؤتھ ایشین فیڈریشن (SAF) گیمز 2027 میں باقاعدہ شرکت کے لیے اسپورٹس ریگولیٹری سطح پر اپنی اصولی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس تزویراتی فیصلے کے بعد پچھلے دو دہائیوں سے معطل رہنے والا انڈین اولمپک ٹیم پاکستان دورہ حقیقت کا روپ دھارنے جا رہا ہے جو دونوں ممالک کے کھیلوں کے نیٹ ورکس کو ایک نیا اور مثبت کوریڈور فراہم کرے گا۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) کے سیکریٹری جنرل خالد محمود نے میڈیا مینیجرز کو اس بریک تھرو کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ساؤتھ ایشین اولمپک ایسوسی ایشن کے ایک حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (IOA) کے آفیشل نمائندوں نے شرکت کی۔ اس سائنسی اور تنظیمی سیشن کے دوران بھارتی وفد نے پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے سرکاری دعوتی مینوئل کو اصولی طور پر قبول کرتے ہوئے گیمز کے مجوزہ روڈ میپ کی مکمل تائید کی ہے۔
23 سالہ تعطل کا خاتمہ اور 3 بڑے شہروں میں مقابلوں کا مینوفیکچرڈ پلان
پاکستان میں ساؤتھ ایشین گیمز کا انعقاد 4 اپریل سے 11 اپریل 2027 تک شیڈول کیا گیا ہے۔ یہ میگا ایونٹ ملکی تاریخ میں پورے 23 سال کے طویل عرصے کے بعد واپس لوٹ رہا ہے؛ پاکستان نے آخری بار ان کھیلوں کی میزبانی سنہ 2004 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کی تھی۔
ڈپٹی پرائم منسٹر سینیٹر اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کام کرنے والی وفاقی اسٹیئرنگ کمیٹی نے ان کھیلوں کو ڈی سینٹرلائزڈ کرنے کا جو ہدف طے کیا تھا اس کے مطابق یہ گیمز تین بڑے شہروں میں بیک وقت منعقد ہوں گے:
اسلام آباد، لاہور اور پشاور: ان تینوں شہروں کے اسپورٹس کمپلیکسز اور اسٹیڈیمز کو کلاؤڈ اور لائیو مانیٹرنگ کیمروں کے جدید سافٹ ویئر نیٹ ورکس سے لیس کیا جا رہا ہے۔
28 کھیلوں کے مقابلے: اس ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 28 مختلف کھیل اور 346 میڈل ایونٹس مینوفیکچر کیے گئے ہیں جن میں کرکٹ، ایتھلیٹکس، سوئمنگ، ہاکی، فٹ بال اور باکسنگ جیسے مقبول کھیل شامل ہیں۔
بھارتی دستے کی تفصیلات اور سیکیورٹی مینوئل کا نفاذ
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے مینیجرز کے مطابق بھارتی اولمپک حکام نے اصولی طور پر کھیلوں کی یونین لیول پر حامی بھر لی ہے جبکہ ان کے کھلاڑیوں، کوچز اور ٹیکنیکل اسٹاف کے باقاعدہ دستے کی حتمی دستاویزی تفصیلات اور بائیومیٹرک ریکارڈز جنوری 2027 میں پاکستان منتقل کیے جائیں گے۔ اگرچہ اسپورٹس لیول پر یہ منظوری مل چکی ہے تاہم حتمی کلیئرنس کے لیے نئی دہلی کی حکومت (انڈین ہوم منسٹری) سے این او سی (NOC) کا حصول کسٹمز رولز کے مطابق ابھی باقی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے انڈین اسپورٹس دستے اور دیگر 6 ممالک (بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال، سری لنکا اور افغانستان) سے آنے والے 6,000 سے زائد ایتھلیٹس اور آفیشلز کے تحفظ کے لیے ہوم ڈیپرٹمنٹ کے تحت ایک فول پروف سیکیورٹی مینوئل نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایئرپورٹ کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نادرا (NADRA) کا کیو آر کوڈ بیسڈ سوفٹ ویئر فعال کیا جائے گا تاکہ امیگریشن میں مینوئل تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اسپورٹس ٹورازم اور جنوبی ایشیا کے پبلک کسٹمز پر اثرات
انڈیا ساؤتھ ایشین گیمز کی تاریخ کا سب سے کامیاب ترین ملک ہے جس نے اب تک ریکارڈ 2,378 میڈلز اپنے نام کیے ہیں۔ پچھلے سیزن (نیپال 2019) میں بھی بھارت 175 گولڈ میڈلز کے ساتھ ٹاپ پوزیشن پر رہا تھا۔ پاکستان میں بھارتی دستے کی آمد سے خطے میں پبلک ٹو پبلک روابط بحال ہوں گے اور اسپورٹس ٹورازم کی بدولت ملکی معیشت کو خطیر ریوینیو کسٹمز حاصل ہوں گے۔






