پاکستان کے اسپورٹس انفراسٹرکچر بین الاقوامی سفارت کاری اور علاقائی کھیلوں کے کوریڈورز کے حوالے سے ایک تاریخی اور شاندار سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔ پاکستان نے 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کے لیے اپنے تمام سٹرکچرل اور لاجسٹک پلانز کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل (SAOC) اور وفاقی حکومت کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے حالیہ اجلاسوں کے بعد اس میگا ایونٹ کی حتمی تاریخوں اور امتحانی مراکز کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ تاریخی گیمز اگلے سال 3 اپریل سے 11 اپریل 2027 تک پاکستان کے تین بڑے شہروں میں بیک وقت منعقد کیے جائیں گے۔ پاکستان 23 سال کے طویل وقفے کے بعد ان کھیلوں کی میزبانی کر رہا ہے؛ اس سے قبل پاکستان نے آخری بار 2004 میں اسلام آباد میں ان کھیلوں کا انعقاد کیا تھا۔ اب مینوئل دفتری تاخیر اور سیکیورٹی خدشات کا خاتمہ کر کے ایک فول پروف ڈیجیٹل اور اسپورٹس نیٹ ورک مینوفیکچر کر دیا گیا ہے۔
28 کھیل، 3 میزبان شہر اور 6 ہزار سے زائد ایتھلیٹس کی آمد کا مینوئل
ڈپٹی پرائم منسٹر سینیٹر اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ہونے والے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے سائنسی بنیادوں پر فرائض تقسیم کیے گئے ہیں。 اس بار گیمز کو صرف وفاقی دارالحکومت تک محدود رکھنے کے روایتی کسٹمز کو بدل کر اسے صوبائی سطح پر پھیلایا گیا ہے۔
اسپورٹس مینوئل کے مطابق ایونٹ کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:
تین میزبان شہر: کھیلوں کے تمام بڑے مقابلے اسلام آباد، لاہور (پنجاب) اور پشاور (خیبر پختونخوا) کے جدید ترین اسٹیڈیمز اور اسپورٹس کمپلیکسز میں منعقد ہوں گے۔
کھیلوں کی تعداد: اس میگا ایونٹ میں مجموعی طور پر 28 مختلف کھیلوں کے مقابلے کروائے جائیں گے، جن میں ایتھلیٹکس، سوئمنگ، ہاکی، فٹ بال، والی بال اور باکسنگ شامل ہیں۔
ایتھلیٹس اور آفیشلز کا کوٹہ: پاکستان بھر میں اس ایونٹ کے دوران 6,000 سے زائد غیر ملکی ایتھلیٹس، کوچز اور اولمپک آفیشلز کی آمد متوقع ہے جو کلاؤڈ اور بائیومیٹرک اسکیننگ کے ذریعے کلیئرنس حاصل کریں گے۔
Pakistan to host the South Asian Games from 4th to 11th April, 2027 — A total of 28 sports will be contested, with over 6,000 athletes & officials expected to participate. Events will be held in Islamabad, Punjab & Khyber Pakhtunkhwa — Pakistan's Deputy PM @MIshaqDar50 chairs… pic.twitter.com/YCMkdsPypu
— Anas Mallick (@AnasMallick) September 5, 2026
شریک ممالک کی فہرست اور کئی سالوں کے تعطل کا خاتمہ
یاد رہے کہ 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کا یہ ایڈیشن اصل میں 2021 میں منعقد ہونا تھا لیکن کورونا وائرس (COVID-19) کی عالمی وبا اور انتظامی تبدیلوں کے باعث اسے مینوئل طریقے سے کئی بار ملتوی کرنا پڑا۔ تاہم اب تمام سفارتی اور عسکری سیکیورٹی اداروں کی توثیق کے بعد اسپورٹس کوریڈور مکمل طور پر فعال ہے۔
اس علاقائی ٹورنامنٹ میں پاکستان، انڈیا، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے بہترین دستے شامل ہو رہے ہیں۔ انڈیا گزشتہ سیزن (نیپال 2019) میں سب سے زیادہ میڈلز جیت کر ٹاپ پر رہا تھا اور اس بار پاکستان ہوم گراؤنڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوفٹ وئیر بیسڈ ٹریننگ کے ذریعے اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
کمیٹیوں کا قیام اور اسٹیڈیمز کی ڈیجیٹل اپ گریڈیشن
ڈپٹی پی ایم اسحاق ڈار نے تمام وفاقی محکموں اور مینیجرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ بین الاقوامی اولمپک رولز کے مطابق اسٹیڈیمز کی تزئین و آرائش اور مینوفیکچرنگ کا کام وقت پر مکمل کریں۔ اس سلسلے میں نیشنل کوآرڈینیٹر کا تقرر کر دیا گیا ہے اور صوبائی آرگنائزنگ کمیٹیوں کو کیش لیس فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔ اسپورٹس ٹورازم کی بدولت پاکستان کا ریوینیو اور سافٹ امیج دنیا بھر میں روشن ہو گا۔






