خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام کی وادی الائی میں پیش آنے والے دنیا کے سب سے سنسنی خیز اور اعصاب شکن ریسکیو آپریشن پر مبنی ایک بین الاقوامی دستاویزی فلم اب باقاعدہ طور پر پاکستان کے سنیما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہے۔ ایمی نامینیٹڈ مایہ ناز پاکستانی فلم ڈائریکٹر محمد علی نقوی (مو نقوی) کی ہدایت کاری میں بننے والی اس دستاویزی فلم کا نام "ہینگنگ بائی اے وائر” (Hanging by a Wire) ہے۔ برطانیہ، امریکہ اور عالمی فلمی میلوں جیسے کہ ‘سنڈینس فلم فیسٹیول 2026’ اور ‘کانز فلم فیسٹیول’ میں دھوم مچانے کے بعد، اب یہ سچی کہانی اپنے آبائی ملک واپس آ رہی ہے۔ بٹگرام چیئر لفٹ ریسکیو ڈاکومنٹری کی ہوم گراؤنڈ پر ریلیز کا مقصد پاکستانی شائقین کو اس ہولناک دن کی اصل اور لائیو کوریج دکھانا ہے۔
اگست 2023 کا وہ ہولناک دن جب آٹھ زندگیاں ہوا میں لٹک گئیں
یہ دستاویزی فلم 22 اگست 2023 کو پیش آنے والے اس حقیقی واقعے کی عکاسی کرتی ہے جب سکول جانے والے 6 بچوں اور 2 اساتذہ سمیت 8 افراد ایک دیسی ساختہ کیبل کار میں گہری کھائی کو پار کر رہے تھے۔ اچانک کار کی دو مضبوط تاریں ٹوٹ گئیں اور وہ زمین سے تقریباً 900 فٹ (275 میٹر) کی بلندی پر محض ایک خراب تار کے سہارے ہوا میں لٹک گئی۔ پورا ملک چوبیس گھنٹے تک ٹی وی اسکرینز کے سامنے سکتہ کی حالت میں بیٹھ کر اس آپریشن کو لائیو دیکھتا رہا۔ فلم میں اسی لائیو فوٹیج اور بعد میں شوٹ کیے گئے رئیل انٹرویوز کو یکجا کیا گیا ہے۔
پاک فوج اور مقامی ہیروز کا 12 گھنٹے کا اعصاب شکن آپریشن
ہینگنگ بائی اے وائر میں دکھایا گیا ہے کہ یہ ریسکیو مشن تیز ہواؤں اور ہیلی کاپٹر کے پنکھوں کے دباؤ کے باعث کتنا پیچیدہ اور خطرناک ہو چکا تھا۔ پاک فوج کے ہوا بازوں نے اپنی جان پر کھیل کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک بچے کو بحفاظت نکالا۔ تاہم، باقی 7 افراد کو نکالنے کے لیے رات کے اندھیرے میں زپ لائن کے مقامی ماہرین، علی سواتی اور صاحب خان کو بلایا گیا۔ فلم میں ان عام پاکستانیوں کی بے مثال شجاعت، پہاڑی تکنیک اور پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ مل کر کی جانے والی 12 گھنٹے کی طویل جدوجہد کو تفصیلی انداز میں فلمایا گیا ہے۔
ناقص انفراسٹرکچر پر ایک گہرا سماجی اور فکری سوال
ڈائریکٹر محمد علی نقوی کے مطابق یہ فلم صرف ایک سنسنی خیز ریسکیو کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ علاقے کے پسماندہ اور ناقص انفراسٹرکچر پر ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ہے۔ حادثے کو گزرے عرصہ ہو چکا ہے لیکن آج بھی وادی الائی کے معصوم بچے اسی طرح کی غیر محفوظ چیئر لفٹس کے ذریعے اسکول جانے پر مجبور ہیں۔ فلم سازوں کو امید ہے کہ جب یہ بٹگرام چیئر لفٹ ریسکیو ڈاکومنٹری پاکستان کے بڑے سنیما گھروں میں دکھائی جائے گی، تو یہ حکام بالا کو ان پہاڑی علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر جیسے بنیادی مسائل حل کرنے پر مجبور کرے گی۔






