پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت (FCC) نے مختلف قومیتوں یا غیر ملکی شہریت رکھنے والے والدین کے درمیان بچوں کی تحویل کے تنازعات سے نمٹنے کے لیے تاریخی گائیڈ لائنز اور نئے اصول جاری کر دیے ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس روزی خان بڑیچ شامل تھے نے ایک تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بچوں کے مبینہ اغوا اور غیر قانونی منتقلی کو روکنے کے لیے عالمی قوانین اور معاہدوں کا احترام کرنا مقامی عدالتوں پر لازم ہے۔ کراس بارڈر بچوں کی کسٹڈی کے حساس معاملات میں جاری ہونے والا یہ آٹھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ مستقبل میں ایسے تمام کیسز کے لیے ایک مستقل عدالتی نظیر ثابت ہوگا۔
سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ مسترد اور کیس کے حقائق
جسٹس علی باقر نجفی کے تحریر کردہ اس تاریخی فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ (SHC) کے اس پرانے حکم کو یکسر کالعدم قرار دے دیا جس میں والد کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ بچہ ماں کے حوالے کرے۔ کیس کے پس منظر کے مطابق نارتھ کیرولائنا (امریکہ) کے رہائشی محمد فراز شیخ اور جویریہ شاہانی کی شادی امریکہ میں ہوئی تھی اور ان کا بیٹا روہان پیدائشی امریکی شہری ہے۔ امریکی عدالت کی جانب سے مشترکہ تحویل کا عارضی حکم نامہ جاری ہونے کے بعد ماں نے والد کو بتائے بغیر بچے کو خفیہ طور پر کراچی منتقل کر دیا اور وہاں کی فیملی کورٹ میں سرپرستی کا دعویٰ دائر کر دیا۔ عدالتِ عظمٰی نے قرار دیا کہ جب والدین پہلے ہی خود کو غیر ملکی عدالت کے دائرہ اختیار میں پیش کر چکے ہوں، تو مقامی سطح پر متوازی احکامات جاری نہیں کیے جا سکتے۔
ہیگ کنونشن 1980 اور ‘عادی رہائش گاہ’ کا بنیادی اصول
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے گائیڈ لائنز میں بین الاقوامی معاہدے ہیگ کنونشن 1980 کا خاص طور پر حوالہ دیا ہے۔ عدالت نے طے کیا ہے کہ:
عادی رہائش گاہ : کسی بھی بچے کو اس کی مستقل یا عادی رہائش گاہ سے دوسرے ملک منتقل کرنا یا وہاں روک لینا اس ملک کے قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی مانا جائے گا۔
فوری واپسی کا قانون: جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ بچہ نئے ماحول میں مکمل طور پر رچ بس چکا ہے اور اس کی واپسی اس کے بہترین مفاد میں نہیں ہے، بچے کو فوری طور پر اس کے اصل ملک واپس بھیجا جائے گا۔
مقامی عدالتوں کے اختیارات کی حد: جیسے ہی مقامی عدالت کو یہ اطلاع ملے کہ بچے کو کسی دوسرے ملک سے غیر قانونی طور پر لایا گیا ہے تو وہ کسٹڈی کے حقوق کا فیصلہ آزادانہ طور پر اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک یہ طے نہ ہو جائے کہ بچے کی واپسی ممکن نہیں ہے۔
غیر ملکی فیصلوں کو تسلیم کرنے کا قانونی معیار
عدالت نے اپنے فیصلے میں ان حالات کی بھی تفصیل سے وضاحت کی ہے جن کے تحت پاکستان کی فیملی اور گارڈین عدالتیں کسی غیر ملکی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کی پابند ہیں۔ گائیڈ لائنز کے مطابق ایک غیر ملکی فیصلہ اس وقت حتمی اور قابلِ قبول ہوتا ہے جب وہ کسی مجاز عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا ہو کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہوا ہو، اور وہ پاکستان کے مقامی یا بین الاقوامی پبلک قوانین کے متصادم نہ ہو۔
کراس بارڈر بچوں کی کسٹڈی کے ان نئے قوانین کے بعد اب پاکستان کی ماتحت عدالتیں ایسے ہائی پروفائل انٹرنیشنل کیسز کا فیصلہ کرتے وقت جذباتی بنیادوں کے بجائے بین الاقوامی نجی قوانین اور بچوں کے تحفظ کے عالمی پروٹوکولز کو ترجیح دینے کی پابند ہوں گی۔ اس اقدام سے جہاں اوورسیز پاکستانیوں کے خاندانی تنازعات میں کمی آئے گی وہاں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے عدالتی نظام کی ساکھ بھی مزید مضبوط ہوگی۔






