پاکستان کے شمالی وادیوں کی خوبصورتی کے پیچھے چھپی خطرناک زندگی اور انسانی ہمت کی ایک لازوال داستان اب سینما اسکرین کی زینت بننے جا رہی ہے۔ ایمی نامزد پاکستانی فلم میکر محمد علی نقوی کی دستاویزی فلم ہینگنگ بائے اے وائر(Hanging by a Wire) ان دنوں دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ دستاویزی فلم اگست 2023 میں خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام میں پیش آنے والے اس خوفناک چیئر لفٹ حادثے کی حقیقی کہانی ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس مضمون میں ہم اس فلم کی ریلیز، اس کی منفرد کہانی اور اسے دیکھنے کے طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔
بٹگرام چیئر لفٹ حادثہ فلم کی کہانی کیا ہے؟
یہ دستاویزی فلم اگست 2023 کے اس دل دہلا دینے والے واقعے کو دوبارہ زندہ کرتی ہے جب بٹگرام کے علاقے الائی میں ایک مقامی چیئر لفٹ (ڈولی) کی تین میں سے دو تاریں اچانک ٹوٹ گئیں۔ اس لفٹ میں 6 معصوم اسکول بچے اور 2 اساتذہ سوار تھے جو زمین سے تقریباً 900 فٹ کی بلندی پر ایک گہری کھائی کے اوپر معلق ہو کر رہ گئے۔
مقامی ماہرین کا کہنا تھا کہ آخری بچ جانے والی تار کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے اور ریسکیو کے لیے صرف 10 گھنٹے کا وقت باقی تھا۔ یہ حادثہ اس وقت ایک عالمی میڈیا ایونٹ بن گیا جب ایک مقامی ڈرون آپریٹر نے لفٹ کے اندر پھنسے بچوں کے انتہائی قریبی مناظر دنیا کو دکھائے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 14 گھنٹے طویل اس آپریشن میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز، مقامی زپ لائن ماہرین اور عام شہریوں نے مل کر ان زندگیوں کو بچایا۔
فلم کے اہم کردار اور مقامی ہیروز کا کردار
ڈائریکٹر محمد علی نقوی نے اس فلم کو صرف ایک سرکاری ریسکیو آپریشن تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اس میں مقامی سماجی طبقات اور اصل ہیروز کو نمایاں کیا ہے۔ فلم تین اہم زاویوں کے گرد گھومتی ہے:
صاحب خان: ایک غریب اور لوکل چیئر لفٹ مکینک جسے علاقے میں اسکائی پائریٹ کہا جاتا ہے۔ اس کا خاندان نسلوں سے یہ دیسی لفٹس بنا رہا ہے اور اس نے ریسکیو میں تکنیکی مدد فراہم کی۔
علی سواتی: ایک امیر جمناسٹ، جم کے مالک اور انسٹاگرام انفلوئنسر جو اسی علاقے میں ملک کی سب سے اونچی زپ لائن چلاتے ہیں اور انہوں نے بچوں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سونیا شمروز: ضلع کی بہادر خاتون پولیس چیف جنہوں نے اس پورے ریسکیو مشن کی زمینی کمانڈ سنبھالی اور سرکاری و عوامی کوششوں کو یکجا کیا۔
فلم سازی کی تکنیک اور حقیقی مناظر کی عکس بندی
اس دستاویزی فلم کو 1990 کی دہائی کی ہالی ووڈ ایکشن تھرلر فلموں کی طرح سنسنی خیز انداز میں فلمایا گیا ہے۔ فلم کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی فرضی کہانی نہیں بلکہ اصل ویڈیوز کا استعمال کیا گیا ہے۔
حقیقی آرکائیو: فلم میں بچوں کے اپنے موبائل فونز سے بنائی گئی ویڈیوز، پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کیمروں کی فوٹیج اور ڈرون شاٹس شامل ہیں۔
اداکاری کے بغیر ری ایکٹمنٹ: چونکہ ریسکیو کا آخری حصہ گھنے اندھیرے میں ہوا تھا جہاں کیمرے کام نہیں کر رہے تھے اس لیے فلم میکر نے ان مناظر کو دوبارہ فلمایا۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی پیشہ ور اداکار کے بجائے حادثے کا شکار ہونے والے اصل بچوں اور ان کو بچانے والے ہیروز نے خود اپنے کردار دوبارہ نبھائے۔
دور دراز علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ اور اسکول کے بچوں کی مشکلات
سنسنی اور ایکشن سے ہٹ کر یہ فلم پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے ایک سنگین اور تلخ سچ کو بھی دنیا کے سامنے لاتی ہے۔ فلم یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آخر کیوں غریب خاندانوں کے بچوں کو صرف اسکول جانے جیسے بنیادی حق کے لیے روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر ان غیر قانونی اور کباڑ کے لوہے سے بنی چیئر لفٹس کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ یہ فلم حکومت اور انتظامیہ کے لیے ایک آئنہ ہے جو پسماندہ علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کی عدم موجودگی کو نمایاں کرتی ہے۔
بٹگرام چیئر لفٹ حادثہ فلم کو آن لائن اور سینما میں کیسے دیکھیں؟
"ہینگنگ بائے اے وائر” کا ورلڈ پریمیئر سن ڈانس فلم فیسٹیول 2026 میں ہوا جہاں اسے بین الاقوامی ناقدین کی طرف سے بے حد سراہا گیا۔
سینما ریلیز: یہ فلم 28 اگست 2026 سے امریکہ کے چنیدہ سینما گھروں (بشمول نیویارک سٹی) میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے جس کے ڈسٹری بیوشن حقوق ‘Abramorama’ کے پاس ہیں۔
بین الاقوامی ریلیز: دنیا کے دیگر حصوں اور یورپ میں اس فلم کو ‘Dogwoof Releasing‘ کے ذریعے سینما گھروں میں پیش کیا جائے گا۔
او ٹی ٹی اور اسٹریمینگ: سینما ریلیز کے چند ہفتوں بعد اس فلم کو نیٹ فلکس (Netflix) یا ایمیزون پرائم (Amazon Prime) جیسے بڑے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل ریلیز کیے جانے کی قوی امید ہے تاکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ناظرین اسے دیکھ سکیں۔






