وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بلدیاتی اور انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور دیرینہ بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کثرتِ رائے سے "اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل، 2025" کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین راجہ خرم نواز کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں وفاقی کابینہ سے توثیق شدہ اس مسودے کو تفصیلی بحث کے بعد پاس کیا گیا، جس سے جڑواں شہروں کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے ارکان کی سخت مخالفت اور نوٹِ اعتراض
قائمہ کمیٹی داخلہ کے اس اہم ترین اجلاس کے دوران بل کی منظوری کا عمل اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ حکومت کی اتحادی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے دو اہم ارکان نے اس ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی کے اراکینِ اسمبلی آغا رفیع اللہ اور عبدالقادر پٹیل نے بل کے موجودہ مسودے کی سخت مخالفت کی اور کمیٹی کے سامنے اپنا باقاعدہ نوٹِ اعتراض (Dissent نوٹ) بھی جمع کروایا۔ پی پی پی ارکان کا مؤقف تھا کہ بلدیاتی قوانین میں بار بار ترامیم کرنے اور آرڈیننس کے ذریعے نظام چلانے کے بجائے صاف اور شفاف طریقے سے فوری بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
تین الگ ٹاؤن کارپوریشنز کا قیام اور نیا بلدیاتی ڈھانچہ
وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون کے نمائندوں کی جانب سے پیش کیے گئے اس نئے ترمیمی بل کے مطابق اسلام آباد کا پرانا بلدیاتی نظام مکمل طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے۔ بل کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
میٹروپولیٹن کارپوریشن کا خاتمہ: موجودہ واحد میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) کو ختم کر کے اس کی جگہ تین الگ الگ خود مختار ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔
میئر اور ڈپٹی میئرز کا انتخاب: ہر ٹاؤن کارپوریشن کا ایک میئر اور دو ڈپٹی میئرز ہوں گے، جن کی مدتِ ملازمت 4 سال ہوگی۔ ان کا انتخاب یونین کونسل کے چیئرمین بالواسطہ ووٹنگ کے ذریعے کریں گے۔
کونسل میں نمائندگی: نئی ٹاؤن کونسلز میں جنرل کونسلرز کے ساتھ ساتھ خواتین، نوجوانوں، مزدوروں اور اقلیتوں کی نمائندگی کے لیے مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔
مالیاتی اور انتظامی خود مختاری: کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے میونسپل اختیارات اور فنڈز تدریجی طور پر ان نومنتخب ٹاؤن کارپوریشنز کو منتقل کر دیے جائیں گے تاکہ گراس روٹ لیول پر عوامی مسائل حل ہو سکیں۔
آرڈنینس کے خاتمے کا خوف اور وزارتِ قانون کی آئینی وضاحت
اجلاس کے دوران جب اپوزیشن اور اتحادی ارکان نے یہ سوال اٹھایا کہ 5 ستمبر کو بلدیاتی آرڈیننس کی قانونی مدت ختم ہو رہی ہے تو اس پر قانون سازی کی کیا حیثیت ہوگی؟ اس پر وزارتِ قانون کے قانونی ماہرین نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت تفصیلی وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کمیٹی کو مطمئن کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی صدارتی آرڈیننس اپنی مدت پوری کر کے ختم (Lapse) بھی ہو جائے، تب بھی پارلیمنٹ اور قائمہ کمیٹی کے پاس یہ مکمل اختیار باقی رہتا ہے کہ وہ اس کے مسودے کو ایک باقاعدہ ایکٹ یا بل کی صورت میں جب چاہیں کثرتِ رائے سے منظور کر سکتے ہیں۔
قائمہ کمیٹی سے بلدیاتی ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اب اس مسودے کو حتمی قانون سازی کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ یا الگ اجلاسوں میں پیش کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ سے پاس ہونے اور صدرِ پاکستان کے دستخط کے فوراً بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) اسلام آباد میں نئی حلقہ بندیوں اور بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کرے






