پاکستان اور ازبکستان نے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرتے ہوئے اگلے پانچ سالوں (2029 تک) میں اپنے تجارتی حجم کو ریکارڈ سطح پر لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں ازبکستان کے سفارت خانے کی جانب سے ملک کے 35 ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب میں باقاعدہ طور پر اعلان کیا گیا کہ دونوں ممالک پاک ازبکستان دوطرفہ تجارت کو سالانہ 2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے لیے مربوط اور منظم اقدامات کر رہے ہیں۔ اس تقریب میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جس میں سفارت کاروں، صنعت کاروں اور حکومتی حکام کی بڑی تعداد موجود تھی۔
بشکیک اجلاس اور اعلیٰ قیادت کا مشترکہ وژن
پاکستان میں متعین ازبکستان کے سفیر علیشر توختایف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ صدر شوکت میرضیایف اور وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے درمیان موجود گہرے دوستانہ روابط اس شراکت داری کی اصل طاقت ہیں۔ حال ہی میں کرغزستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر دونوں رہنماؤں کے مابین ایک انتہائی نتیجہ خیز ملاقات ہوئی تھی جس میں فروری 2026 میں طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور 2 ارب ڈالر کے اس تجارتی ہدف کو تیز رفتاری سے حاصل کرنے پر دوبارہ مہر تصدیق ثبت کی گئی۔ ازبکستان نے SCO اور اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کی صدارت سنبھالنے پر پاکستان کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایئر کنیکٹیویٹی میں اضافہ اور اکتوبر 2026 کا نیا فلائٹ پلان
اکنامک کوریڈورز کو فعال کرنے کے لیے ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ازبک سفیر نے انکشاف کیا کہ دو سال قبل دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہِ راست پرواز موجود نہیں تھی تاہم اب تاشقند سے اسلام آباد اور لاہور کے لیے مسافر اور کارگو پروازیں کامیابی سے چل رہی ہیں۔ تجارتی اور عوامی روابط کو تیز کرنے کے لیے اکتوبر 2026 تک براہِ راست پروازوں کا دائرہ کار بڑھا کر کراچی کو بھی شامل کیا جائے گا، جس سے ہفتہ وار پروازوں کی کل تعداد 9 ہو جائے گی۔ یہ فضائی رابطہ تاجروں کی نقل و حرکت اور سیاحت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
پاک-افغان-ازبکستان ریلوے اور تزویراتی اقدامات
پاک ازبکستان دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے اٹھائے جانے والے دیگر اہم ترین اقدامات درج ذیل ہیں:
ٹرانس افغان ریلوے پروجیکٹ: ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے لائن منصوبے پر فیسیبلٹی اسٹڈی کو تیز کیا جا رہا ہے۔ یہ روٹ وسطی ایشیا کو پاکستان کی گوادر اور کراچی بندرگاہوں سے جوڑنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے گا۔
ترجیحی تجارتی معاہدہ : دونوں ممالک کے مابین توسیعی ترجیحی تجارتی معاہدے پر مکمل عملدرآمد شروع ہو چکا ہے، جس سے کسٹمز ٹیرف میں واضح کمی آئی ہے۔
بزنس ٹو بزنس (B2B) روابط: ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، زراعت، آئی ٹی، اور مائننگ کے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور ‘ٹریڈ ہاؤسز’ قائم کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی بندرگاہیں اور موٹر ویز ازبکستان جیسی خشکی سے گھری ریاست کو بحرِ ہند تک رسائی کا سب سے موزوں ترین راستہ فراہم کرتی ہیں جس سے یہ شراکت داری آنے والے سالوں میں پورے خطے کی خوشحالی کی ضامن بن جائے گی۔






