پاکستان نے اپنی معاشی بحالی اور بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں ایک اور بڑی پیش رفت کا آغاز کر دیا ہے وزارتِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق حکومتِ پاکستان نے باقاعدہ طور پر امریکی ڈالر کی قدر والے دوہرے ٹرانچ یورو بانڈز کی پیشکش کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کا نئے یورو بانڈز کا اجرا ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بین الاقوامی اپ گریڈیشن دیکھنے میں آئی ہے اور ملکی معیشت کے بنیادی اشاریے مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا اور طویل مدتی قرضوں کے پروفائل کو بہتر بنانا ہے۔
پانچ اور دس سالہ مدت کے طویل مدتی بانڈز کا فریم ورک
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق موجودہ پیشکش کے تحت حکومت نے کم مدت کے بجائے طویل مدتی میچورٹیز پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس بار عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے 5 سال اور 10 سال کی مدت کے یورو بانڈز متعارف کروائے جا رہے ہیں ۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی بانڈز کا یہ اجرا عالمی منڈی میں پاکستان کے معاشی استحکام پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا۔ اس سے قبل اپریل 2026 میں پاکستان نے چار سال کے طویل وقفے کے بعد 3 سالہ مدت کے یورو بانڈز کے ذریعے 500 ملین ڈالر کامیابی سے حاصل کیے تھے۔ اب اس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے طویل مدتی منصوبے پر کام شروع کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی سے 2 ارب ڈالر تک حاصل کرنے کی حکمتِ عملی
حکومتی منصوبے کے مطابق اس فنانسنگ مہم کے ذریعے عالمی کیپیٹل مارکیٹ سے مجموعی طور پر 1 سے 2 ارب امریکی ڈالر تک کے فنڈز حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں جیسے فچ اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کا آؤٹ لک بہتر کیے جانے کے بعد حکومت کو امید ہے کہ یہ یورو بانڈز نسبتاً سستی اور بہتر شرائط پر فروخت ہوں گے۔ حکام کی بھرپور کوشش ہے کہ اس بار بانڈز پر شرحِ منافع یا مارک اپ کو 7 فیصد سے کم رکھنے پر بات چیت کی جائے تاکہ ملکی خزانے پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ کم سے کم ڈالا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی مالیاتی مارکیٹ کے لیے 75 کروڑ ڈالر مالیت کے پانڈا بانڈز لانے کی تیاریاں بھی متوازی طور پر جاری ہیں۔
ملکی زرمبادلہ اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں پر اثرات
پاکستان کا نئے یورو بانڈز کا اجرا ملکی معیشت کے لیے ایک اہم ترین پلس ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اگلے مالی سالوں کے دوران پاکستان کو بیرونی قرضوں کی اقساط اور سود کی مد میں بھاری ادائیگیاں کرنی ہیں۔ گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی یہ نئی رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ڈالر کے ذخائر کو سہارا دے گی جس سے ملکی کرنسی (روپے) کی قدر کو بھی استحکام ملے گا۔ معاشی ماہرین کے مطاب اگرچہ کمرشل بانڈز کے ذریعے ادھار لینا ایک مہنگا آپشن مانا جاتا ہے لیکن موجودہ حالات میں کثیر الجہتی اداروں پر انحصار کم کرنے اور فنانسنگ کے ذرائع میں تنوع لانے کے لیے یہ ایک ناگزیر اور درست مالیاتی حکمتِ عملی ہے۔






