پاکستان بھر میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کے لیے ایک بہت بڑی اور اہم ترین ریگولیٹری پیشرفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر کے تمام پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی جانب سے وصول کی جانے والی بھاری فیسوں پر سخت ایکشن لیتے ہوئے سالانہ فیس کی زیادہ سے زیادہ حد کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ اب کوئی بھی نجی ادارہ منظور شدہ حد سے زائد رقم وصول کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی کی جانب سے جاری کردہ نئے اسٹرکچرل مینوئل کے مطابق نجی میڈیکل کالجوں کی فیس کی زیادہ سے زیادہ حد 21 لاکھ (2.1 ملین) روپے سالانہ مقرر کر دی گئی ہے یہ فیصلہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے قائم کردہ خصوصی میڈیکل ایجوکیشن ریفارمز کمیٹی کی سفارشات اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی توثیق کے بعد نافذ کیا گیا ہے
61 کالجز کی اپیلیں اور 35 اداروں کو فکسڈ ٹیرف کی اجازت
قومی اسمبلی میں بریفنگ دیتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت نیلسن عظیم نے اس فیصلے کے پسِ منظر کی تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ابتدائی طور پر نجی کالجوں کے لیے 18 لاکھ روپے سالانہ فیس فکس کی تھی۔ تاہم ملک بھر کے 61 نجی میڈیکل کالجوں نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کے مینوئل کے تحت اپیلیں دائر کیں کہ ان کے اخراجات، جدید سائنسی لیبارٹریز اور اسپتال کی سہولیات بہتر ہیں اس لیے انہیں فیس بڑھانے کی اجازت دی جائے۔
کمیٹی کی جانب سے ان اداروں کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کی کڑی جانچ پڑتال کے بعد درج ذیل اہم فیصلے کیے گئے:
35 اداروں کو مشروط اضافہ کی اجازت: صرف 35 نجی میڈیکل کالجوں کو ان کی اعلیٰ معیارِ تعلیم اور سہولیات کی بنیاد پر فیس بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 21 لاکھ روپے سالانہ چارج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
باقی کالجز کے لیے سخت ہدایات: بقیہ تمام پرائیویٹ کالجز اب بھی 18 لاکھ روپے کے بنیادی ٹیرف پر ہی فیس وصول کرنے کے پابند ہیں اور وہ مینوئل طریقے سے اس میں اضافہ نہیں کر سکتے۔
پرافٹ مارجن پر کیپ: پی ایم ڈی سی نے کسی بھی نجی میڈیکل ادارے کا منافع اس کی کل آمدنی کے 20 فیصد تک محدود کر دیا ہے تاکہ تعلیم کی کمرشلائزیشن کو روکا جا سکے۔
سیٹوں کی شدید قلت اور بیرونِ ملک تعلیم پر 80 کروڑ ڈالر کا بوجھ
وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں میڈیکل سیٹوں کے شدید بحران اور طلبہ کی مائیگریشن پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال تقریباً 96,000 امیدواروں نے ایم ڈی کیٹ کا امتحان پاس کیا لیکن پورے پاکستان میں سرکاری اور نجی شعبے کو ملا کر کل نشستیں صرف 22,000 کے لگ بھگ ہیں۔ ان میں سے 65 فیصد سیٹیں نجی اور 35 فیصد سرکاری کالجوں میں ہیں۔
ملک کے اندر گنجائش محدود ہونے کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی طلبہ میڈیکل کی ڈگری کے لیے وسطی ایشیائی ممالک (جیسے کرغزستان اور ازبکستان) اور چین کا رخ کرتے ہیں، جہاں تعلیم کا معیار ہمیشہ تسلی بخش نہیں ہوتا۔ اس غیر ملکی مائیگریشن کے باعث پاکستان کو سالانہ 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر کا خطیر زرمبادلہ بیرونِ ملک بھیجنا پڑتا ہے جو ملکی معیشت پر ایک بہت بڑا مالیاتی بوجھ ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت نے نئے نجی میڈیکل کالجز کھولنے پر تین سال کی مکمل پابندی عائد کر دی ہے جبکہ موجودہ سرکاری اسپتالوں اور کالجوں میں انفراسٹرکچر بڑھا کر سیٹیں بڑھائی جا رہی ہیں۔
نجی کالجوں کی خفیہ وصولیوں کے خلاف آن لائن کمپلینٹ پورٹل کا قیام
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان ریگولیٹری قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مینیجرز اور اداروں کے خلاف سخت ترین تادیبی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قومی اسمبلی میں ارکانِ پارلیمنٹ نے شکایات کیں کہ کئی نجی کالجز کلاؤڈ یا مینوئل طریقے سے انڈر دی ٹیبل 35 سے 40 لاکھ روپے تک وصول کر رہے ہیں اور طلبہ کو ایک دن کے نوٹس پر فیس جمع کرانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
ان کسٹمز اور دھوکہ دہی کا سدِباب کرنے کے لیے درج ذیل حفاظتی نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے:
سرکاری کمپلینٹ پورٹل: وزارتِ صحت نے والدین اور طلبہ کے لیے ایک مخصوص آن لائن شکایات پورٹل قائم کر دیا ہے جہاں وہ خفیہ فیسوں کی رپورٹ درج کرا سکتے ہیں۔
45 اداروں کو نوٹسز: فیس کا معقول جواز نہ دینے اور ٹیکس قوانین پر پورا نہ اترنے والے 45 نجی میڈیکل اداروں کو پہلے ہی باقاعدہ شوکاز نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔
اضافی فیسوں کی واپسی: اگر کسی کالج نے طے شدہ ریٹس سے ایک روپیہ بھی زائد وصول کیا ہے تو پی ایم ڈی سی رولز کے تحت وہ رقم طلبہ کو فوراً واپس کرنے کی پابند ہوگی۔






