عالمی سیاحت، بین الاقوامی تجارت اور اقتصادی روابط کو مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل دور کے مطابق ڈھالنے کے لیے عوامی جمہوریہ چین نے اپنی سرحدوں کو دنیا کے لیے مزید کھول دیا ہے۔ چین کی نیشنل مائیگریشن ایڈمنسٹریشن نے باقاعدہ طور پر اپنے تاریخی اور مقبول ترین چین کا ویزا فری ٹرانزٹ پروگرام کو وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس تزویراتی توسیع کا بنیادی مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں، کاروباری مینیجرز اور بین الاقوامی سیاحوں کو بغیر کسی مینوئل ویزا پیچیدگی کے چین کے بڑے صنعتی، کسٹمز اور ثقافتی مراکز کا دورہ کرنے کی اجازت دینا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اب مخصوص ممالک کے شہریوں کو 72 یا 144 گھنٹوں (3 سے 6 دن) کے لیے چین کے نامزد کردہ ایگزٹ اینڈ انٹری پورٹس کے ذریعے بغیر ویزا داخلے اور محدود قیام کی قانونی سہولت میسر ہوگی
72 اور 144 گھنٹے کی پالیسی اور نئے پورٹس کا اسٹرکچرل فریم ورک
چین کے مائیگریشن قوانین کے مطابق اس پروگرام کو دو بنیادی کیٹیگریز (72 گھنٹے اور 144 گھنٹے) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس نئے ریگولیٹری دور کے تحت اب غیر ملکی مسافروں کے لیے کسٹمز اسکیننگ اور کیو آر بیسڈ ڈیجیٹل وریفیکیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے:
144 گھنٹے کا ویزا فری ٹرانزٹ: یہ سہولت بیجنگ، شنگھائی، گوانگ زو، شینزین، چنگڈو اور شیان جیسے چین کے بڑے معاشی اور آئی ٹی ہبز میں دستیاب ہے۔ مسافر ان شہروں کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں، بحری بندرگاہوں یا ریلوے ٹرمینلز کے ذریعے داخل ہو کر 6 دن تک بغیر ویزا قیام کر سکتے ہیں۔
72 گھنٹے کا ویزا فری ٹرانزٹ: یہ اسکیم ان مخصوص شہروں اور پورٹس پر لاگو ہوتی ہے جہاں مسافروں کا ڈیٹا بیس مینوئل سے ڈیجیٹل پر منتقل ہو رہا ہے اور وہاں 3 دن تک کے قیام کی اجازت ہوتی ہے۔
ایگزٹ کوریڈور کی شرط: اس پروگرام کا فائدہ اٹھانے کے لیے مسافر کے پاس چین سے کسی تیسرے ملک یا خطے کا کنفرمڈ ہوائی یا بحری ٹکٹ ہونا لازمی ہے۔
ویزا فری اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کی فہرست اور اہلیت کا معیار
نیشنل مائیگریشن ایڈمنسٹریشن نے اس باوقار فہرست میں یورپ، امریکہ اور ایشیا کے متعدد ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کو شامل کیا ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت اب 54 سے زائد ممالک کے شہری اس سہولت کا براہِ راست فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن میں درج ذیل خطے شامل ہیں:
یورپی ممالک: برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، سوئٹزرلینڈ، پولینڈ، اور نیدرلینڈز سمیت شینگن زون کے تمام اہم ممالک۔
امریکی خطہ: امریکہ، کینیڈا، برازیل، ارجنٹائن، چلی اور میکسیکو۔
ایشیا پیسیفک اور آسٹریلیا: آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، اور سنگاپور۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام بیجنگ کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت وہ عالمی مینوفیکچررز اور چین کے سپلائی چین نیٹ ورکس (جیسے سی پیک اور بی آر آئی) کے مابین انسانی روابط کو تیز تر اور پیپر لیس بنانا چاہتا ہے۔
ہوٹل رجسٹریشن، سیکیورٹی قوانین اور ڈیجیٹل اسکیننگ مینوئل
اگرچہ یہ پروگرام غیر ملکیوں کو بغیر ویزا داخلے کی شاندار آزادی دیتا ہے لیکن چین کے سیکیورٹی اور داخلہ رولز کے تحت مسافروں پر کچھ سخت ضوابط بھی لاگو ہوتے ہیں:
24 گھنٹے کی رجسٹریشن پالیسی: چین میں داخل ہونے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر غیر ملکی مسافروں کو اپنے قیام کی جگہ (ہوٹل یا رشتہ دار کے گھر) کی معلومات مقامی پبلک سیکیورٹی بیورو (جیل یا پولیس اسٹیشن) کے ڈیجیٹل پورٹل پر لازمی رجسٹر کرانی ہوتی ہے۔ ہوٹلوں میں یہ عمل خودکار سوفٹ وئیر کے ذریعے منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔
جغرافیائی حدود کی پابندی: مسافر جس پورٹ یا صوبے (جیسے گوانگ ڈونگ یا شنگھائی زون) سے داخل ہوا ہے وہ اپنے قیام کے دوران صرف اسی مخصوص زون کے اندر ہی حرکت کرنے کا مجاز ہوتا ہے اور اسے دوسرے صوبوں میں بغیر اجازت جانے کی مینوئل ممانعت ہوتی ہے۔
اس پروگرام کی کامیابی کے بعد ماہرینِ معیشت کا ماننا ہے کہ چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیاحت کے ریونیو میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔






